رسائی کے لنکس

logo-print

دنیا بھر میں بڑی تعداد میں لوگ گھر بار چھوڑنے پر مجبور: رپورٹ


رپورٹ کے مطابق اب دنیا میں ہر 122 میں سے ایک شخص یا تو پناہ گزین ہے یا اندرون ملک بے گھر ہے یا پھر پناہ کی تلاش میں ہے

اقوام متحدہ کے ادارہ برائے پناہ گزین (یو این ایچ سی آر) نے کہا ہے کہ دنیا بھر میں جنگوں، تشدد اور ایذا رسانیوں کی وجہ سے ریکارڈ تعداد میں لوگ اپنا گھر بار چھوڑنے پر مجبور ہوئے ہیں اور اس تعداد میں تیزی سے اضافہ بھی ہو رہا ہے۔

جمعرات کو ’یو این ایچ سی آر‘ نے جاری کی گئی اپنی نئی رپورٹ میں کہا کہ 2014ء کے اواخر تک چھ کروڑ لوگ زبردستی اپنا گھر بار چھوڑنے پر مجبور ہوئے جو کہ اس سے پچھلے برس کی تعداد سے اسی لاکھ جب کہ ایک دہائی قبل ہونے والی نقل مکانی سے دو کروڑ زیادہ ہے۔

لوگوں کی اپنے گھروں سے بڑی تعداد میں نقل مکانی کا سلسلہ 2011 میں شام میں پیدا ہونے والی صورتحال سے شروع ہوا، لیکن گزشتہ پانچ سالوں میں افریقہ، ایشیا اور یورپ میں بھی تنازعات اور ایذا رسانیوں کی وجہ سے لوگ اپنا گھر بار چھوڑ کر کہیں اور منتقل ہوئے۔

گزشتہ سال ہر روز تقریباً 42500 افراد تشدد کی کسی نہ کسی شکل سے متاثر ہو کر بے گھر ہونے پر مجبور ہوئے۔

پناہ گزینوں کے لیے اقوام متحدہ کے ہائی کمشنر انتونیو گوئترز کا کہنا ہے کہ دنیا میں حالات بہت خراب ہو گئے ہیں اور اگر لوگ یہ سمجھتے ہیں کہ انسانی ہمدردی کی بنیاد پر کام کرنے والے لوگ یہ سب ٹھیک کرسکتے ہیں تو "وہ غلط سمجھتے ہیں۔"

ان کا کہنا تھا کہ رپورٹ کے مطابق اب دنیا میں ہر 122 میں سے ایک شخص یا تو پناہ گزین ہے یا اندرون ملک بے گھر ہے یا پھر پناہ کی تلاش میں ہے، اور یہ آج کی دنیا کی صورتحال کو ظاہر کرتی ہے۔

شام ایسا ملک ہے جس میں دنیا میں سب سے زیادہ لوگ بے گھر اور پناہ گزین ہیں۔ اس کے بعد افغانستان اور صومالیہ کا نمبر آتا ہے۔

پناہ گزینوں کی ایک کثیر تعداد ترکی میں عارضی طور پر مقیم ہے۔ یونان اور اٹلی میں ایسے بہت سے پناہ گزین موجود ہیں جو یورپ منتقل ہونے کے لیے یہاں پہنچے۔

جنوب مشرقی ایشیا میں حالیہ مہینوں میں میانمار سے ہزاروں کی تعداد میں روہنگیا مسلمان نقل مکانی پر مجبور ہوئے ہیں۔

XS
SM
MD
LG