رسائی کے لنکس

logo-print

کشمیر میں حالیہ بھارتی اقدامات پر ’شدید تشویش‘ ہے: اقوام متحدہ


انسانی حقوق کیلئے اقوام متحدہ کی ہائی کمشنر مشیل بیچیلے (فائل فوٹو)

انسانی حقوق کے لیے اقوام متحدہ کی ہائی کمشنر مشیل بیچیلے نے کہا ہے کہ اُنہیں بھارتی حکومت کی طرف سے کشمیر میں کیے جانے والے حالیہ اقدامات پر 'شدید تشویش' ہے۔

انہوں نے بھارتی حکومت کی جانب سے جموں و کشمیر کی نیم خود مختار حیثیت کے خاتمے پر بھی گہری تشویش کا اظہار کیا۔

انہوں نے اقوام متحدہ کی انسانی حقوق کونسل کے اجلاس میں اپنے افتتاحی خطاب کے دوران کہا کہ کشمیر میں انٹر نیٹ، مواصلاتی رابطوں، پُرامن اجتماع پر پابندیاں، اور مقامی سیاسی رہنماؤں و کارکنوں کی گرفتاریاں خاص طور پر باعث تشویش ہیں۔

مشیل بیچیلے نے کہا کہ یہ بات انتہائی اہم ہے کہ کشمریوں کے مستقبل کے حوالے سے کسی بھی فیصلے سے پہلے کشمیریوں سے براہ راست معلوم کیا جائے کہ وہ کیا چاہتے ہیں۔

انہوں نے بھارت سے مطالبہ کیا کہ وہ فوری طور پر کرفیو ہٹائے تاکہ لوگوں کی بنیادی خدمات تک رسائی ممکن ہو سکے۔

مشیل بیچیلے نے بھارتی حکومت سے کرفیو ہٹانے کا مطالبہ کیا ہے۔ (فائل فوٹو)
مشیل بیچیلے نے بھارتی حکومت سے کرفیو ہٹانے کا مطالبہ کیا ہے۔ (فائل فوٹو)

مشیل بیچیلے نے بھارت سے یہ بھی کہا کہ وہ اس بات کو یقینی بنائے کہ کشمیر میں گرفتار کیے جانے والے سیاسی رہنماؤں، کارکنوں اور عام شہریوں کے بنیادی انسانی حقوق کا احترام کیا جائے۔

اقوام متحدہ کے انسانی حقوق کے ادارے کی سربراہ کا یہ خطاب بھارت کی جانب سے اتوار کے روز کرفیو کے دوران محرم کے جلوس نکالنے کے بعد سکیورٹی مذید سخت کرنے کے ایک روز بعد سامنے آیا ہے۔

پاکستان کے وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی بھی جنیوا پہنچ چکے ہیں جہاں وہ منگل کو اجلاس سے خطاب کریں گے اور کشمیر میں بھارتی حکومت کے اقدامات کے حوالے سے بات کریں گے۔

یاد رہے کہ بھارتی حکومت نے پانچ اگست کو جموں اور کشمیر کی نیم خود مختار حیثیت ختم کرتے ہوئے سخت فوجی پابندیاں عائد کر دی تھیں۔

مشیل بیچیلے نے بھارت کی ریاست آسام میں شہریت کی اندراج سے متعلق متنازع فیصلے پر بھی تشویش کا اظہار کیا ہے۔

بھارتی حکومت نے پانچ اگست کو جموں اور کشمیر کی نیم خود مختار حیثیت ختم کردی تھی۔ (فائل فوٹو)
بھارتی حکومت نے پانچ اگست کو جموں اور کشمیر کی نیم خود مختار حیثیت ختم کردی تھی۔ (فائل فوٹو)

ناقدین کا کہنا ہے کہ بھارتی حکومت کا یہ اقدام مسلمانوں کو شہریت سے محروم کرتے ہوئے انہیں ملک سے خارج کرنے کی غرض سے حکمران قوم پرست جماعت بھارتیہ جنتا پارٹی کا سوچا سمجھا منصوبہ ہے۔

بیچیلے کا کہنا تھا کہ اس اقدام کے ذریعے 31 اگست کو شائع ہونے والی فہرست سے 19 لاکھ مسلمانوں کو خارج کر دیا گیا ہے اور اس سے علاقے کے مسلمانوں میں شدید پریشانی اور بے یقینی کی کیفیت پیدا ہو گئی ہے۔

انہوں نے بھارتی حکومت سے اپیل کی کہ اس سلسلے میں انصاف برتا جائے، مسلمانوں کو جلا وطن نہ کیا جائے اور انہیں زیر حراست نہ رکھ جائے اور بھارتی حکومت ہر صورت 19 لاکھ مسلمانوں کو بے وطن ہونے سے بچائے۔

فیس بک فورم

XS
SM
MD
LG