رسائی کے لنکس

قائداعظم یونیورسٹی میں ہڑتال جاری، تعلیمی سرگرمیاں معطل


قائد اعظم یونیورسٹی اسلام آباد میں ہڑتال کے باعث تدریسی عمل شروع نہیں ہو سکا۔ اکتوبر 2017

یونیورسٹی انتظامیہ مشتعل طلبا کے معاملے کو سنبھالنے میں تاحال ناکام ہے۔ انتظامیہ کا کہنا ہے کہ طلباء نے کئی ڈیپارٹمنس کو تالے  لگا رکھے ہیں جبکہ شٹل سروس بند ہونے کے باعث تدریسی عمل بحال کرنے میں مسائل کا سامنا ہے۔

علی رانا

اسلام آباد کی قائداعظم یونیورسٹی میں کشیدگی برقرار ہے۔ تعلیمی سرگرمیاں معطل ہیں اور طالب علموں کا احتجاج 29 ویں روز میں داخل ہوگیا ہے جبکہ طلبہ تنظیم نے کہا ہے کہ ساتھیوں کی بحالی تک تدریسی عمل بحال نہیں ہونے دیا جائے گا۔

سٹوڈنٹس گروپس میں تصادم کے باعث یونیورسٹی اب تک بند ہے اور اس کے داخلی راستوں پر پولیس تعینات کرکے سیکیورٹی سخت کی گئی ہے لیکن طالب علموں اور اساتذہ موجود ہونے کے باوجود تدریسی عمل شروع نہیں ہو سکا ہے۔

احتجاجي طلبہ کا کہنا ہے ان کے مطالبات پورے ہونے تک کلاسوں کابائیکاٹ جاری رہے گا۔ یونیورسٹی انتظامیہ کا کہنا ہے بدھ کے روز یونیورسٹی کو ہر صورت کھولا جائے گا۔

ادھر قائداعظم یونیورسٹی کے احتجاجي طلبہ کےخلاف گذشتہ روز ایک اور مقدمہ درج کیا گیا۔ پولیس کے مطابق مقدمے میں طلبہ پر یونیورسٹی میں گاڑیوں کے شیشے توڑنے اور ٹائروں سے ہوا نکالنے کا الزام ہے جبکہ طلبہ نے یونیورسٹی کی گاڑیوں کے ڈرائیوروں کو مارا پیٹا اور چابیاں چھین لیں۔

جامعہ سے نکالے گئے طلباء کو بحال نہ کیے جانے پر بلوچ طلبہ کونسل نے متعدد شعبوں کو تالے لگا کر یونیورسٹی شٹل سروس بھی روک دی ہے۔ بلوچ طلبہ کونسل کا کہنا ہے کہ ساتھی طلباء کی بحالی تک تدریسی عمل بحال نہیں ہونے دیں گے۔

ذرائع کے مطابق سیاسی مداخلت کے باعث ضلعی انتظامیہ احتجاج کرنے والے طلبا کےخلاف کارروائی سے گریز کررہی ہے جبکہ ضلعی انتظامیہ کا مؤقف ہے کہ جب تک یونیورسٹی انتظامیہ تحریری طور پر کارروائی کی درخواست نہیں دے گی، ضلعی انتظامیہ کسی قسم کی کارروائی نہیں کرے گی تاہم پولیس کی بھاری نفری قائد اعظم یونیورسٹی کے گیٹ پر موجود ہے۔

یونیورسٹی انتظامیہ مشتعل طلبا کے معاملے کو سنبھالنے میں تاحال ناکام ہے۔ انتظامیہ کا کہنا ہے کہ طلباء نے کئی ڈیپارٹمنس کو تالے لگا رکھے ہیں جبکہ شٹل سروس بند ہونے کے باعث تدریسی عمل بحال کرنے میں مسائل کا سامنا ہے۔

پیر کے روز طالب علم جب یونیورسٹی پہنچے تو طلبہ تنظیم کے کارکنوں نے اکثر کلاسز کے داخلی دروازوں کے تالوں میں کیمیکل ڈال کر انہیں سیل کر دیا، اور انہوں نے بسوں کے ٹائروں سے ہوا بھی نکال دی جس کی وجہ سے شٹل سروس نہ چل سکی۔

موجودہ صورت حال پر وزیر داخلہ احسن اقبال نے بھی نوٹس لے لیا ہے اور انہوں نے یونیورسٹی انتظامیہ کو ہدایت کی ہے کہ ہر حال میں تدریسی عمل شروع کیا جائے۔ جس پر شام کو یونیورسٹی کے وائس چانسلر ڈاکٹر جاوید اشرف کی طرف سے ایک پیغام میڈیا کو بھیجا گیا جس میں ان کا کہنا ہے کہ ہم ضلعی انتظامیہ کے ساتھ رابطے میں ہیں اور بدھ کو ہر صورت تدریسی عمل کا آغاز ہوگا۔

واضح رہے کہ قائد اعظم یونیورسٹی میں طلبہ کا مخصوص دھڑا گذشتہ ایک ماہ سے احتجاج کررہا ہے تاہم گذشتہ ہفتے پولیس نے حالات پر قابو پا کر تدریسی عمل بحال کرا دیا تھا۔ یونیورسٹی میں پیر کو طلبہ نے سامنے آ کر احتجاج تو نہ کیا لیکن طلبہ کے اس مخصوص دھڑے نے یونیورسٹی کی بسوں کے ٹائروں سے ہوا نکال دی جس کے باعث یونیورسٹی کی شٹل سروس معطل ہے۔

فیس بک فورم

XS
SM
MD
LG