رسائی کے لنکس

خیال کیا جاتا ہے کہ ٹرمپ اور اسٹولٹنبرگ عالمی دہشت گردی سے نبردآزما ہونے میں نیٹو کے کردار؛ اور ٹرمپ کی جانب سے بارہا اظہار کیے گئے اس اصرار پر گفتگو کریں گے کہ دفاعی اخراجات میں نیٹو کے تمام دیگر ملکوں کو اپنا حصہ ڈالنا ہوگا

امریکی صدر ڈونالڈ ٹرمپ نے بدھ کے روز اعلان کیا کہ نیٹو ’’اب متروک‘‘ تنظیم نہیں رہی جب کہ تین ماہ قبل، اُنھوں نے کہا تھا کہ اتحاد اپنی افادیت کھو چکا ہے چونکہ دہشت گرد حملوں کے خلاف دفاع نہیں کر پایا۔

نیٹو کے سکریٹری جنرل ژاں اسٹولٹنبرگ کے ہمراہ ایک مشترکہ اخباری کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے ٹرمپ نے کہا کہ ’’سکریٹری جنرل اور میں نے با مقصد گفتگو کی ہے آیا دہشت گردی کے خلاف لڑائی میں نیٹو مزید کیا کچھ کر سکتا ہے‘‘۔

ٹرمپ نے کہا کہ اُنھوں نے کافی وقت پہلے اس کے بارے میں شکایت کی تھی۔ لیکن تنظیم نے اپنے آپ کو تبدیل کر لیا ہے اور اب وہ دہشت گردی کے خلاف لڑے گی۔ میں نے کہا تھا کہ ''متروک ہو چکی ہے۔ لیکن یہ متروک نہیں رہی‘‘۔

ٹرمپ اس بات کا اعادہ کیا کہ جرمن چانسلر آنگلہ مرخیل سے حالیہ ملاقات کے دوران اُنھوں اس بات کی شکایت کی تھی کہ نیٹو کے دیگر ارکان دفاع کے لیے اپنا حصہ نہیں ڈال رہے ہیں۔

وائٹ ہاؤس کے ایسٹ روم میں اسٹولٹنبرگ کے ہمراہ کھڑے ہو کر صدر نے کہا کہ نیٹو کے ارکان کو لازمی طور پر اپنی مالی ذمہ داریاں پوری کرنی چاہئیں اور اپنا حصہ ڈالنا چاہیئے۔ ''کئی ایک ایسا نہیں کرتے رہے ہیں‘‘۔

ملاقات سے قبل وائٹ ہاؤس کے ایک سینئر اہل کار نے بتایا کہ ٹرمپ ’’100 فی صد نیٹو کے ساتھ ہیں‘‘۔

اس سے قبل ٹرمپ نے جنوری میں نیٹو کو ’’متروک‘‘ کہا تھا چونکہ یہ متعدد دہشت گرد حملے روکنے میں ناکام رہا ہے چونکہ ’’اسے کئی سال قبل ترتیب دیا گیا تھا‘‘۔

اہل کار نے نام نہ لینے کی شرط پر بتایا کہ صدر ’’بارہا، بالکل واضح کر چکے ہیں کہ وہ نیٹو کے ساتھ پُرعزم طور پر کھڑے ہیں‘‘۔

فیس بک فورم

XS
SM
MD
LG