رسائی کے لنکس

logo-print

وائٹ ہاوس کی کرونا ٹاسک فورس بدستور کام کرتی رہے گی: صدر ٹرمپ


Virus outbreak Trump

صدر ٹرمپ نے بدھ کو کہا ہے کہ وہ چاہتے ہیں کہ غیر معینہ مدت کے لیے ٹاسک فورس اپنا کام کرتی رہے؛ اور یہ کہ ''اسے اب اپنی زیادہ توجہ امریکیوں کو محفوظ رکھنے اور امریکہ میں کاروبار زندگی کو کھولنے پر مرکوز رکھنی ہوگی''۔

اس سے قبل منگل کو صدر ٹرمپ اور نائب صدر پنس نے کہا تھا کہ مئی کے آخر یا جون کے شروع میں ٹاسک فورس کو ختم کر دیا جائے گا، اس کے بجائے متعلقہ محکمے اور حکام اپنی اپنی ذمہ داریاں سنبھال لیں گے۔

مگر اس فیصلے کی فوری مخالفت کو دیکھ کر صدر ٹرمپ نے آج بدھ کو صبح سویرے ایک ٹویٹ پیغام میں کہا کہ ٹاسک فورس بدستور غیر معینہ مدت تک کام کرتی رہے گی۔

بقول ان کے، ''یہ سیکورٹی اور ملک کو دوبارہ کھولنے کے امور پر اپنی توجہ مرکوز رکھے گی۔ ضرورت کے مطابق، ہم اس کے اراکین کی تعداد میں کمی بیشی کرتے رہیں گے۔ ٹاسک فورس ویکسین اور علاج پر بھی توجہ دے گی''۔

ٹرمپ نے منگل کو ایری زونا میں 'ہنی بال انٹرنیشنل فیکٹری' میں خطاب کرتے ہوئے کہا تھا کہ وقت آگیا ہے کہ دنیا کی سب سے بڑی ملکی معیشت کو دوبارہ کھولا جائے، جو اس وقت کساد بازاری کے خطرے سے دوچار ہونے والی ہے اور اس کے تین کروڑ کارکن بے روزگار ہو گئے ہیں۔

انہوں نے کہا کہ امریکی کاروبار اور تجارت کو کھولنے کا وقت آگیا ہے۔ ساتھ ہی ان کا کہنا تھا کہ عین ممکن ہے کہ اس سے مزید اموات واقع ہوں۔

اے بی سی ٹیلی ویژن نیٹ ورک کو انٹرویو دیتے ہوئے صدر ٹرمپ نے کہا کہ ابھی اور اموات ہوں گی۔ مگر کرونا وائرس گزر جائے گا، چاہے اس کی ویکسین بنے یا نہ بنے۔

تازہ ترین اعداد و شمار کے مطابق، اکہتر ہزار سے زیادہ لوگ ہلاک ہو چکے ہیں اور بارہ لاکھ کے قریب مصدقہ کیسز سامنے آ چکے ہیں۔

یونی ورسٹی آف واشنگٹن نے پیر کے روز جاری نئی پیش گوئی میں کہا ہے کہ اگست کے اوایل میں اموات کی تعداد ایک لاکھ پینتیس ہزار تک پہنچ سکتی ہے۔

یونی ورسٹی کا کہنا ہے کہ تعداد کا تعین امریکہ کی تقریباً تیس ریاستوں میں گھروں میں رہنے اور سماجی دوری کے اصولوں میں نرمی برتنے کی روشنی میں کیا گیا ہے.

فیس بک فورم

XS
SM
MD
LG