رسائی کے لنکس

logo-print

برطانوی اسکولوں کے نصاب سے اردو زبان کو نکالنے کا فیصلہ


ایڈ ایکسل برطانیہ میں واحد امتحانی بورڈ ہے جو اردو زبان کی پیشکش کرتا ہے۔ اور اب ادارے کی جانب سے اردو کے ساتھ ساتھ عربی، جاپانی اور یونانی زبان کو اسکولوں کے قومی نصاب سے خارج کرنےکا فیصلہ کیا گیا ہے

برطانیہ میں ایک امتحانی بورڈ، ’ایڈ ایکسل‘ نے اپنے ویب سائٹ پر جو اطلاعات فراہم کی ہیں، ان کے مطابق 'جی سی ایس ای' اور' اے لیول' سطح کے کورسسز میں اردو کو زبان کے طور پر مزید جاری نہیں رکھا جائے گا۔

’ایڈ ایکسل‘ برطانیہ میں واحد امتحانی بورڈ ہے جو اردو زبان کی پیشکش کرتا ہے اور اب ادارے کی جانب سے اردو کے ساتھ ساتھ عربی، جاپانی اور یونانی زبان کو اسکولوں کے قومی نصاب سے خارج کرنےکا فیصلہ کیا گیا ہے۔

'پیرسن' جو ایڈ ایکسل امتحانی بورڈ کی قابلیت پیش کرتا ہے،اس کے مطابق، اسکولوں میں جی سی ایس ای اور اے لیول کےنصاب میں دستیاب غیر ملکی زبان کے انتخاب میں سے اردو کو2017 تک نکال دیا جائے گا۔

ادارے کا کہنا ہے کہ اس نے امتحانات بورڈ پر نگرانی کے سرکاری ادرے 'آف کوال' کے نئے معیار کے مطابق جی سی ایس ا ی اور اے لیول کی قابلیت پرنظر ثانی کی ہے۔

بیان میں کہا گیا ہے کہ ادارہ مختلف مضامین کی مقبولیت کا جائزہ لیتا رہتا ہے،اور اسکولوں اور کالجوں کی ان غیر ملکی زبانوں میں دلچسپی کو پیش نظر رکھتے ہوئےاصلاح کےحوالےسےفیصلے کرتا ہے۔

ادارے سےجاری ہونے والےبیان کے مطابق اردو سمیت چاروں زبانوں میں آخری امتحان 2016 میں ہوں گے۔ اور 2017 میں طالب علموں کو اردو کو زبان کےطور پر منتخب کرنےکا اختیار نہیں ہوگا۔

بین الاقوامی زبان اردو کو برطانوی اسکولوں کے نصاب سےخارج کرنے کے فیصلے کے خلاف برطانوی تعلیمی اداروں اور پاکستانی کمیونٹی کی جانب سے سخت رد عمل سامنے آیا ہے۔

اردو کے تحفظ کے لیے تعلیمی اداروں اور پاکستانی کمیونٹی کی کوششیں

شیفلڈ کے ایک ثانوی اور کالج سطح کے اسکول 'ہائی اسٹورز' کی جانب سے اے لیول اردو کو بچانےکے لیے ایک مہم کا آغاز کیا گیا ہے،جس پر اب تک تقریبا 600 افراد نے اردو کی حمایت میں دستخط کئے ہیں۔

شیفلڈ کے مقامی اخبار دی اسٹار کے مطابق، چینج ڈاٹ اورگ پر اردو زبان کے تحفظ کے لیے چلائی جانے والی اس آن لائن مہم میں کمیونٹی کی جانب سے پالیسی واپس لینے کا مطالبہ کیا گیا ہے۔

تفصیلات کے مطابق تعلیمی اداروں کےخدشات پر مشتعمل درخواست شیفلڈ ہالم کے رکن پارلیمنٹ اور نائب وزیر اعظم نک کلیگ کی وساطت سے تعلیم کی سیکریٹری نکی مورگن تک پہنچائی جائے گی۔

اسکول کا کہنا ہے کہ اس کے 20 فیصد طالب علموں کی مادری زبان اردو ہے؛جبکہ اسکول شیفلڈ بھر سے اے لیول اردو پڑھنے والے طالب علموں کے لیے مرکز کی حیثیت رکھتا ہے۔

محمد اکرم ہائی اسٹورز اسکول میں اردو کے استاد ہیں وہ 1990 سے یہاں اردو پڑھا رہے ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ اس سال تعلیم کی سیکریٹری کی جانب سے اقلیتی زبانوں مثلاً پولش اور بنگالی زبانوں کے مستقبل کی گارنٹی کا وعدہ کیا گیا تھا اور جب اقلیتی زبانوں کے فروغ کی بات کی جاسکتی ہے تو پھر اردو کو کیوں محفوظ نہیں کیا جاسکتا ہے۔

انھوں نے کہا کہ اردو بین الاقوامی زبان ہے جو پوری دنیا میں زندہ ہے اور برطانیہ میں فروغ پزیر ہے یہاں اردو کے ترجمانوں کی بہت ضرورت ہے اور ہم سمجھتے ہیں کہ اردو ایک مادری زبان اور دیگر کمیونٹی زبانوں کی طرح اہم ہے۔

اسکول ہیڈ ٹیچر این گیج نےکہا کہ 'یہ فیصلہ حیرت انگیز اور مایوس کن ہے ہائی اسٹورز شیفلڈ بھر کے اے لیول طالب علموں کو اردو سیکھنے کا موقع فراہم کرتا ہے۔'

مانچسٹر سے تعلق رکھنے والی ادبی شخصیت محترمہ سبینہ خان نے اس فیصلے کےخلاف احتجاج کرتے ہوئے ایک آن لائن پٹیشن کا آغاز کیا ہے۔جس میں انھوں نےلوگوں سے اردو زبان کے تحفظ کی حمایت میں دستخط مانگے ہیں۔

'کئیر ٹو پٹیشن' ویب سائٹ پر 'سیو اردو اے لیول کوالی فیکیشن ان دی یوکے' نامی اس درخواست کی حمایت میں اب تک تقریبا 300 افراد نےدستخط کئے ہیں ،اس پٹیشن کی حمایت میں پاکستان سے بھی دستخط اور تبصرہ موصول ہو رہے ہیں۔

درخواست پر دستخط کرنے والےایک استاد ساجد احمد نے لکھا کہ 'میں پچھلے دو عشروں سے اردو کا استاد ہوں اس سال بھی جی سی ایس ای میں ہمارے یہاں 53 طالب علموں نے داخلہ لیا ہے۔ جو اس زبان سے لطف اندوز ہو رہے ہیں اس فیصلےکو واپس لینا بہت ضروری ہے'۔

سیدہ حیدر نے اپنے تبصرے میں لکھا کہ 'اردو اپنے آداب اور پروٹوکول کے ساتھ دنیا کی نفیس زبانوں میں سے ایک ہے ،یہ بادشاہوں اور شاعروں کی زبان ہے اسے محفوظ کیا جانا چاہیئے'۔

پیرسن کے ترجمان نے اسٹار اخبار کو بتایا کہ سیکریٹری آف اسٹیٹ کی درخواست اور شیڈو ایجوکیشن سیکریٹری کے بیان کو دیکھتے ہوئے ہم نگرانی کے ادرے آف کوال سے اے لیول اردو کے تحفظ کے حوالے سے ماکلمے کا آغاز کریں گے ۔

دنیا بھر میں اردو کی مقبولیت

رواں برس شائع ہونے والی ایک مطالعاتی رپورٹ کا نتیجہ بتاتا ہے، کہ اردو دنیا کے ساتوں براعظموں میں بولی اور سمجھی جانے والی زبانوں میں سے دوسری مقبول زبان ہے۔

'یونیورسٹی آف ڈیسلڈرف الرچ' کے طویل مدتی مطالعے کےمطابق دنیا بھر میں سب سے زیادہ چینی زبان بولی جاتی ہے اور اردو د نیا کی دوسری بڑی زبان بن چکی ہے،جس کے بولنے والوں کی تعداد اٹھاون کروڑ پچاس لاکھ ہے،جبکہ انگریزی تیسری بڑی زبان ہے۔

برطانیہ میں 2011 کی مردم شماری کی رپورٹ کے اعداد و شمار بتاتے ہیں، کہ برطانیہ اور ویلز میں تقریباً 40 لاکھ افراد کی مادری زبان انگریزی نہیں ہے۔

قومی شماریات کے دفتر کی 2011 کی رپورٹ کے مطابق برطانیہ میں 140.000 افراد انگریزی نہیں بولتے ہیں.

اعداد و شمار سے پتہ چلا کہ برطانیہ بھر میں 20زبانیں سب سے زیادہ پولی جاتی ہیں؛ جن میں انگریزی اور پولش زبان کے بعد تیسری بڑی زبان 'پنجابی' ہے جس کے بولنے والوں کی تعداد 273,000 ہے، اسی طرح چوتھی بڑی زبان 'اردو' ہے جو 269,000 برطانوی عوام کی زبان ہے۔

XS
SM
MD
LG