رسائی کے لنکس

logo-print

انتخابی ٹکٹ ملتے ہی ارمیلا پر الزامات کی بوچھاڑ


بالی وڈ ایکٹریس ارمیلا مٹونڈکر نے کانگریس کے ٹکٹ پر الیکشن لڑنے کا اعلان کیا کِیا، اپوزیشن جماعتوں نے ان پر الزامات کی بوچھاڑ کردی۔

ایک جانب انہیں تنقید کا نشانہ بنایا جا رہا ہے تو دوسری طرف ذاتی زندگی کو سیاسی زندگی میں گھسیٹا جا رہا ہے۔

ارمیلا نے فروری کے آخری دنوں میں کانگریس میں شمولیت اختیار کی تھی جس پر راہول گاندھی اور دیگر کانگریسی رہنماؤں نے ممبئی سے انہیں انتخابات لڑنے کی پیشکش کی تھی۔ لیکن جیسے ہی یہ بات عام ہوئی، مخالف جماعتوں خاص کر بھارتیہ جنتا پارٹی نے انہیں آڑے ہاتھوں لینا شروع کردیا۔

ارمیلا انتخابی مہم کے دوران
ارمیلا انتخابی مہم کے دوران

ارمیلا کے بارے میں سوشل میڈیا پر یہ افواہیں وائرل ہیں کہ ان کے شوہر ایک پاکستانی نژاد ہیں۔ دوسرے یہ کہ انہوں نے شادی سے پہلے ہندو مت چھوڑ کر اپنا مذہب تبدیل کیا اور ایک مسلمان سے شادی کرلی جو پاکستانی ہیں۔

سوشل میڈیا پر ان کی شوہر کے ساتھ تصویریں بھی اپ لوڈ کی گئیں جس کے بعد سے اب تک ایک لمبی بحث چھڑی ہوئی ہے۔

سوشل میڈیا کے ساتھ ساتھ بھارتی پریس میں بھی ارمیلا کے حوالے سے شہ سرخیاں شائع ہو رہی ہیں۔

ارمیلا اور محسن اختر میر کی شادی کے وقت کی ایک تصویر
ارمیلا اور محسن اختر میر کی شادی کے وقت کی ایک تصویر

میڈیا رپورٹس کے مطابق ارمیلا نے 2015ء میں محسن اختر میر سے شادی کی تھی جو مقبوضہ کشمیر سے تعلق رکھتے ہیں۔ پیشے کے اعتبار سے وہ تاجر اور ایک ماڈل ہیں جبکہ وہ عمر میں ارمیلا سے نو سال چھوٹے ہیں۔

بھارتی میڈیا کے مطابق محسن سے نکاح کے لیے انہوں نے مذہب تبدیل کیا اور اپنا نام مریم اختر میر رکھ لیا۔

اس حوالے سے بھارت کی سرکاری خبر رساں ایجنسی 'پریس ٹرسٹ آف انڈیا' کا اپنی رپورٹ میں کہنا ہے کہ کسی نے ارمیلا کے 'وکی پیڈیا' پر موجود پروفائل پیج پر جا کر ان کا نام، مذہب اور دیگر تفصیلات میں 'ہیر پھیر' کیا ہے۔

ارمیلا کے والد بھی سوشل میڈیا پر پیغام دے چکے ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ ویب سائٹ انتظامیہ کو ایسے 'شیطانوں' کے خلاف ایکشن لینے کی ضرورت ہے۔

انہوں نے اپنی بیٹی کو بھی پیغام دیا ہے کہ ارمیلا کو ایسے لوگوں سے ڈٹ کر مقابلہ کرنا ہوگا۔

ادھر ارمیلا ان باتوں کو نظر انداز کرتے ہوئے اپنے انتخابی حلقے میں آنے والے ممبئی کے شمالی علاقوں ملاڈ، کاندی ولی، بوری ولی اور دہی سر جاکر بھرپور انتخابی مہم چلا رہی ہیں۔ پیر کو ہی انہوں نے اپنے حلقۂ انتخاب میں خود رکشا ڈرائیو کیا اور لوگوں سے ووٹ کی اپیل کی۔

یہ تمام علاقے بی جے پی کا گڑھ شمار ہوتے ہیں اور یہاں ماضی میں بڑے بڑے رہنما انتخابی مہم چلاتے اور کامیاب ہوتے رہے ہیں۔

فیس بک فورم

XS
SM
MD
LG