رسائی کے لنکس

logo-print

سینیٹ میں ری پبلکن پارٹی کو 50 نشستیں حاصل


فائل فوٹو

ریاست الاسکا میں ری پبلکن سینیٹر ڈین سلیون کے دوبارہ منتخب ہونے کے ساتھ ہی پارٹی نے ایوانِ بالا کی 100 میں سے 50 سیٹیں حاصل کر لی ہیں جب کہ ڈیموکریٹک پارٹی نے 48 سیٹیں حاصل کی ہیں۔

ایوان میں دونوں پارٹیوں میں سے سینیٹ میں کس کی اکثریت ہو گی؟ اس کا فیصلہ ریاست جارجیا میں پانچ جنوری کو دو سیٹوں پر ہونے والے مقابلوں کے نتائج سے واضح ہو گا۔ ان دو مقابلوں کے بعد ہی ظاہر ہو سکے گا کہ دونوں پارٹیوں کو سینیٹ میں کتنے ممبران کی حمایت حاصل ہو گی۔

الیکشن 2020 کے مکمل نتائج کے بعد تشکیل پانے والی سینیٹ کی پوزیشن آئندہ دو برسوں تک برقرار رہے گی۔

جارجیا میں دو قدامت پسند ری پبلکن سیاست دان ڈیوڈ پرڈو اور کیلی لوفلر اس وقت دو سیٹوں پر فائض ہیں۔ لیکن تین نومبر کے انتخابات میں دونوں ہی واضح برتری حاصل نہ کر سکے جس کے بعد اب ان دو سیٹوں پر دوبارہ مقابلے ہوں گے۔

سینیٹر پرڈو کے مدِ مقابل ڈیموکریٹک جان اوسوف ہیں، جو ایک صحافی ہیں۔ انہیں 2018 میں ایوانِ نمائندگان کے مقابلے میں ایک سخت مقابلے کے بعد شکست کا سامنا کرنا پڑا تھا۔

ریاست کی دوسری سیٹ کے لیے موجودہ سینیٹر لوفلر کا مقابلہ ترقی پسند ڈیموکریٹ رافیل وارنک سے ہو گا۔ رافیل وارنک اٹلانٹا شہر کے ایک گرجا گھر میں پاسٹر ہیں اور گزشتہ ہفتے ہونے والے الیکشن میں وہ سب سے زیادہ ووٹ لے کر تمام امیدواروں سے آگے رہے۔

ریاست جارجیا کی ایک بھی سیٹ جیتنے کی صورت میں ری پبلکن پارٹی اپنی ایوان میں اکثریت کو برقرار رکھنے میں کامیاب ہو جائے گی۔

لیکن اگر دونوں قدامت پسند سیاست دان شکست سے دوچار ہوتے ہیں تو ڈیموکریٹک پارٹی کے ممبران کی تعداد بھی 50 ہو جائے گی۔ اور یوں دونوں پارٹیوں کو مساوی نمائندگی حاصل ہو گی۔

لیکن اس صورت میں قانون سازی کے لیے کسی بھی پارٹی کے پاس اکثریتی ووٹ نہیں ہو گا۔ امریکی آئین کے مطابق دونوں پارٹیوں میں برابری کی صورت میں نائب صدر کے فیصلہ کن ووٹ کے ذریعے جمود کی کیفیت کو ختم کیا جا سکتا ہے۔

لہذا ایوان میں مساوی نمائندگی کے وقت کی انتظامیہ اپنے حق میں نائب صدر کے ووٹ سے قانون سازی کر سکے گی اور سینیٹ کی کمیٹیوں میں اکثریت بھی حاصل کر سکے گی۔

یاد رہے کہ امریکی نظام میں سینیٹ کی کمیٹیاں صدر کے اعلی عہدوں کے لیے نامزد امیدواروں کی تقرری کی منظوری دینے کے ساتھ ساتھ وفاقی عدالتوں میں ججوں کی تقرری کی منظوری بھی دیتی ہیں۔

ادھر، تین نومبر کے انتخابات کے بعد ڈیموکریٹک پارٹی نے ایوانِ نمائندگان میں پہلے ہی برتری حاصل کر لی ہے۔

فیس بک فورم

XS
SM
MD
LG