رسائی کے لنکس

logo-print

امریکہ میں اسقاطِ حمل کے آئینی تحفظ کے خلاف کوششیں تیز کیوں ہو رہی ہیں؟


فائل فوٹو

اسقاط حمل کی سہولتوں تک خواتین کی رسائی کو امریکہ میں پچھلی پانچ دہائیوں سے قانونی تحفظ حاصل ہے۔ لیکن پچھلے کچھ عرصے سے یہ قانونی تحفظ ختم کرنے کی کوششوں میں تیزی آئی ہے۔ سال2021 کے ابتدائی چھ ماہ کے دوران اب تک مختلف امریکی ریاستوں میں اسقاط حمل سے متعلق پابندیاں سخت کرنے کے پانچ سو سے زائد قوانین متعاراف کروائے گئے ہیں۔

امریکی سپریم کورٹ نے ریاست مسی سپی میں اسقاط حمل پر پابندیاں سخت کرنے کا مطالبے پر مبنی ایک کیس کو رواں سال اکتوبر میں سننے کا عندیہ دیا ہے۔ اس کیس میں مطالبہ کیا جا رہا ہے کہ پندرہ ہفتوں سے زائد کے حمل کو ختم کرنے پر پابندی عائد ہونی چاہے۔

خواتین کے حقوق کے لیے کام کرنے والے بیشتر سماجی کارکنان نے خدشہ ظاہر کیا ہے کہ اس سے امریکہ میں خواتین کے لئے اسقاط حمل کے حق کو میسر قانونی تحفظ خطرے میں پڑ سکتا ہے۔

جبکہ اسقاط حمل تک رسائی محدود کرنے یا مکمل پابندی لگانے کے حامی گروہ امید کر رہے ہیں کہ امریکی سپریم کورٹ ماضی کے اپنے فیصلے پر نظر ثانی کرے گئی۔

1973 کا رو بمقابلہ ویڈ کا عدالتی فیصلہ کیا ہے؟

امریکہ میں 1973 میں ایک تاریخی عدالتی فیصلے کے تحت اسقاط حمل کو خواتین کا حق قرار دے کر آئینی تحفظ دیا گیا تھا جس کے مطابق اسقاط حمل تب تک ممکن ہے، جب تک رحم مادر میں موجود بچہ رحم سے باہر بھی سانس لینے کے قابل نہ ہو جائے۔ ماہرین صحت اسے 24 سے 28 ہفتے تک کا وقت قرار دیتے ہیں۔

امریکی ادارے سینٹر فار ری پروڈکٹو رائٹس کی سینئیر سٹاف اٹارنی جینی ما نے وائس آف امریکہ سے بات کرتے ہوئے کہا کہ “یہ کوئی راز کی بات نہیں کہ قانون ساز مسلسل خواتین کے اسقاط حمل کے حق کو چھیننا چاہتے ہیں۔‘‘

انہوں نے کہا کہ اگرچہ امریکہ میں ایسی کوششیں ہمیشہ سے ہوتی آئی ہیں لیکن بقول ان کے ’’جس طریقے سے اب اس اسقاط حمل کے خلاف آوازیں اٹھ رہی ہیں، ایسا گزشتہ پانچ دہائیوں میں دیکھنے میں نہیں آیا۔‘‘

انہوں نے بتایا کہ صرف اس سال اسقاط حمل تک رسائی کو محدود کرنے کی 500 سے زائد قانونی کوششیں کی گئی ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ یہ اقدامات خواتین کے حقوق کے منافی ہیں۔

انہوں نے مزید کہا “اب جب کہ امریکہ کی سپریم کورٹ میں بھی قدامت پسند خیالات رکھنے والے ججوں کی اکثریت ہے، تو خدشہ ہے کہ اسقاط حمل تک رسائی آسان بنانے کے فیصلے میں تبدیلی لائی جائے۔‘‘

امریکی شہری کیا چاہتے ہیں؟

امریکہ میں ہر دس میں سے چھ بالغ افراد کا کہنا ہے کہ اسقاط حمل یا تو مکمل طور پر یا پھر زیادہ تر کیسز میں قانونی ہونا چاہیے۔

پیو ریسرچ سنٹر کی جانب سے اس سال موسم بہار میں کیے گئے سروے کے مطابق 59 فیصد امریکی اسقاط حمل کے حق میں ہیں، جب کہ 39 فیصد شہری اسقاط حمل کے یا تو مکمل یا پھر جزوی طور پر خلاف ہیں۔

سروے کے مطابق امریکہ اس مسئلے پر سیاسی بنیادوں پر ہمیشہ سے منقسم رہا ہے تاہم اب اس معاملے پر ڈیموکریٹس اور ری پبلیکنز میں تقسیم ماضی کے مقابلے میں زیادہ بڑھ گئی ہے۔

سروے کے مطابق جہاں ڈیموکریٹک پارٹی کے اراکین کی ایک بڑی تعداد اسقاط حمل تک رسائی کے حق میں ہے، وہیں ری پبلیکن پارٹی میں اسقاط حمل کی مخالفت کرنے والوں کی اکثریت ہے۔

اس سلسلے میں وائس آف امریکہ سے بات کرتے ہوئے اسقاط حمل پر پابندی کے حق میں کام کرنے والی تنظیم ’سیو دی سٹارکس‘ کی ڈاکٹر کیرسی ٹرانڈم نے کہا کہ امریکہ میں اسقاط حمل پر پابندی لاگو ہونی چاہیے۔ ان کے بقول ’’اس معاملے میں امریکہ باقی ممالک سے زیادہ لبرل ہے۔‘‘

انہوں نے کہا کہ انہیں خوشی ہے کہ اب سپریم کورٹ اس معاملے پر دوبارہ غور کرے گی کیونکہ بقول ان کے ’’دنیا میں آنے والی ہر زندگی کا کوئی معنی ہوتا ہے اور ویسے بھی عورت اسقاط حمل کرانے کے بعد زیادہ ذہنی دباؤ کا شکار ہوتی ہے جب کہ بچہ پیدا کرنے سے اسے محبت اور خوشی ملتی ہے۔”

ان کا کہنا تھا کہ ریپ کی صورت میں ٹھہرنے والے حمل کو بھی گرانے کا عمل درست نہیں ہے۔

کن امریکی ریاستوں میں اسقاط حمل پر پابندیوں میں اضافے کی کوششیں کی گئی ہیں؟

ریاست لوئی زیانا میں قانون سازوں نے پندرہ ہفتے کے بعد اسقاط حمل پر پابندی کا قانون منظور کر لیا ہے مگر اس پر عمل درآمد تب تک نہیں ہوگا جب تک سپریم کورٹ ریاست مسی سپی کے مقدمے کا فیصلہ نہیں کرتی۔

ریاست آرکنساس میں اس برس مارچ میں ہر قسم کے ابارشن پر پابندی عائد کر دی گئی ہے۔ ریپ یا پھر جان پہچان والوں سے اختلاط کے نتیجے میں ٹھہرنے والے حمل کو بھی ختم کروانے پر پابندی عائد ہے۔ اسقاط حمل یا ابارشن صرف طبی ایمرجنسی کی صورت میں ہی ممکن ہے۔ اس نئے قانون پرعمل درآمد اگست سے متوقع ہے۔

واشنگٹن میں اسقاط حمل کے خلاف مظاہرہ
please wait

No media source currently available

0:00 0:01:52 0:00

ریاست اوکلاہوما میں بھی ہر قسم کے ابارشن پر پابندی عائد کرنے کا قانون پاس کیا گیا ہے جو اس سال نومبر سے لاگو ہو گا۔ اس کے ساتھ ہی ایک اور قانون کی منظوری بھی دی گئی ہے جس کے مطابق چھ ہفتے کے حمل کو ختم کروانے میں مدد دینے والے طبی معالج بھی سزا کے مرتکب ہوں گے۔

ریاست ٹینیسی میں گزشتہ برس متعدد پابندیاں لاگو کی گئی ہیں جن میں چھ ہفتے تک کے حمل کو بھی ختم کروانے کو غیر قانونی قرار دیا گیا ہے۔ جبکہ امریکی ریاستوں ایریزونا، مونٹانا، ساؤتھ کیرولائنا، اوہائیو، کینٹکی، آئیڈاہو، پینسلوینیا اور میزوری میں بھی اسقاط حمل پر مزید پابندیاں عائد کرنے کی قانونی کوششیں کی گئی ہیں۔

امریکہ میں اسقاط حمل کے حامی اور مخالفین کی نظریں اب سپریم کورٹ پر لگی ہیں جہاں اس سال اکتوبر سے اسقاط حمل تک رسائی میں مزید پابندیوں سے متعلق مقدمے کا فیصلہ کیا جانا ہے۔

فیس بک فورم

XS
SM
MD
LG