رسائی کے لنکس

logo-print

قندوز میں اسپتال غلطی سے فضائی کارروائی میں نشانہ بنا: جنرل کیمبل


جنرل جان کیمبل نے کہا کہ کہ ’’غلطی سے ایک اسپتال نشانہ بنا۔ ارادی طور پر ہم کبھی کسی طبی تنصیب کو نشانہ نہیں بنایا کرتے‘‘۔

ایک اعلیٰ امریکی فوجی کمانڈر نے کہا ہے کہ افغانستان کے شہر قندوز میں گزشتہ ہفتے کو ہونے والے فضائی حملے کے دوران غلطی سے ایک اسپتال نشانہ بنا، جس کی ذمہ داری امریکی افواج پر عائد ہوتی ہے۔

بین الاقوامی تنظیم ڈاکٹرز وداؤٹ بارڈرز کے زیر انتظام قندوز میں چلنے والے اس اسپتال پر بمباری سے 22 افراد ہلاک ہوئے۔

امریکی جنرل، جان کیمبل نے یہ بات واشنگٹن میں کانگریس کی قائمہ کمیٹی کی سماعت کے دوران کہی۔

اُنھوں نے کہا ہے کہ افغان افواج نے اس اسپتال پر فضائی حملے کی درخواست کی تھی،کیوں کہ وہاں موجود شدت پسند فائرنگ کر رہے تھے۔

جنرل جان کیمبل نے کہا کہ افغان فورسز کی درخواست کا جائزہ لینے کے بعد، امریکہ نے آدھ گھنٹہ بعد یہ کارروائی کی۔

کیمپ بیل کے بقول، ’’یہ بات واضح ہے کہ فضائی کارروائی فراہم کرنے کا فیصلہ امریکی فیصلہ تھا جو امریکی چین آف کمانڈ نے کیا‘‘۔

اُنھوں نے کہا کہ ’’غلطی سے، ایک اسپتال نشانہ بنا۔ ارادی طور پر ہم کبھی کسی طبی تنصیب کو نشانہ نہیں بنایا کرتے‘‘۔

جنرل کیمبل افغانستان میں نیٹو کی قیادت والے فوجی اتحاد کے سربراہ ہیں۔ اُنھوں نے اس فضائی حملے کے بارے میں مزید تفصیلات نہیں بتائیں، جبکہ امریکہ اور افغان تفتیش کار چھان بین کر رہے ہیں۔

ڈاکٹرز وداؤٹ بارڈرز نے، جسے فرانسیسی زبان میں ’ایم ایس ایف‘ کے مخفف سے جانا جاتا ہے، اس شدید حملے کی مذمت کی ہے۔

تنظیم کے مطابق فضائی کارروائی میں اُس کے عملے کے12 ارکان اور 10 مریض ہلاک ہوئے۔ تنظیم نے اس واقعے کو بین الاقوامی انسانی قانون کی ’صریح‘ خلاف ورزی قرار دیا ہے۔

ایم ایس ایف کی صدر، جون لیو نے منگل کے روز کہا کہ اس واقع کو محض غلطی کہہ کر یا پھر لڑائی کا ناگزیر نتیجہ بتا کر رد نہیں کیا جا سکتا۔

اُنھوں نے کہا کہ افغان اور امریکی افواج کی معاونت سے یوں لگتا ہے جیسے اُنھوں نے مکمل طور پر کام کرنے والے ایک اسپتال کو مسمار کرنے کا فیصلہ کیا، ’’جو ایک جنگی جرم کے مترادف ہے‘‘۔ ایم ایس ایف نے اس حملے کی غیر جانبدارانہ تفتیش کے لیے کہا ہے۔

XS
SM
MD
LG