رسائی کے لنکس

logo-print

افغان سکیورٹی معاہدے میں ناکامی ’آپشن نہیں‘: امریکہ


باہمی سلامتی کے سمجھوتے پر افغان صدر حامد کرزئی کے ساتھ اسی سال دستخط کرنے کے معاملے میں ناکامی ’کوئی آپشن نہیں‘، جس پر امریکہ غور کر رہا ہو: خاتون ترجمان محکمہٴ خارجہ

اوباما انتظامیہ نے حکومتِ افغانستان پر زور دیا ہے کہ وہ نئے سکیورٹی معاہدے پر دستخط کرے، یا پھر 2014ء کے بعد کسی بھی امریکی فوجی کے ملک میں نہ رہنےکے امکان کا سامنا کرے۔

محکمہٴخارجہ کی خاتون ترجمان، جین ساکی نے جمعے کو ’وائس آف امریکہ‘ کی افغان سروس کو بتایا کہ افغان صدر حامد کرزئی کے ساتھ باہمی سلامتی کے سمجھوتے پر دستخط کرنے میں ناکامی ’کوئی آپشن نہیں‘، جس پر امریکہ غور کرے گا۔

ساکی کے الفاظ میں، حاصلِ کلام یہ ہے کہ ضرورت اس بات کی ہے کہ جتنا جلد ممکن ہو ہماری دونوں حکومتیں یہ سمجھوتا کرلیں، یقینی طور پر سال کے ختم ہونے سے پہلے پہلے۔ کیونکہ، اگر ہم ایسا نہیں کر پاتے، تو امریکہ اور اس کے اتحادیوں کے لیے 2014ء کے بعد ملک میں اپنی موجودگی جاری رکھنے کا بندوبست کرنا تقریباً ناممکن ہو جائے گا۔

ساکی کا یہ تبصرہ جمعے کے دِن صدر کرزئی کے ایک ترجمان کی طرف سے اُس بیان کے بعد سامنے آیا، جس میں امریکہ کو دو ٹوک جواب دیا گیا تھا، یہ کہتے ہوئے کہ اس معاہدے پر اپریل میں ہونے والے صدارتی انتخابات کے بعد ہی دستخط ہوں گے۔

ساکی نے کہا کہ کرزئی کا یہ اعلان امریکی انتظامیہ کے لیے حیران کُن تھا۔

قبائلیوں، برادری اور منتخب راہنماؤں پر مشتمل قومی اسمبلی، جسے لویہ جرگہ کہا جاتا ہے، اسی ہفتے افغانستان میں اجلاس کرنے والی ہے، جس میں سلامتی کے معاہدے پر غور ہوگا۔

لویہ جرگہ میں تقریباً 2500مقامی اور علاقائی راہنما شرکت کر رہے ہیں، اور مجوزہ سمجھوتے کا شق وار جائزہ لینے کے لیے، اِسے چھوٹے گروپوں میں تقسیم کیا گیا ہے۔

باور کیا جاتا ہے کہ اجتماع کے زیادہ تر شرکاٴسمجھوتے کے حق میں ہیں، جس میں اُن شرائط کا تفصیل وار ذکر کیا گیا ہے، جس کی رو سے بین الاقوامی افواج ملک میں رہ کر طالبان باغیوں سے لڑائی میں حکومت کی مدد کریں۔

تاہم، جمعرات کے روز امریکی عہدے دار اُس وقت حیران رہ گئے جب مسٹر کرزئی نے مشورہ دیا کہ اس سلسلے میں معاہدے پر باضابط دستخط کے معاملے کو آئندہ سال کے وسط تک مؤخر کیا جاسکتا ہے، جب وہ عہدے پر فائز نہیں ہوں گے۔
XS
SM
MD
LG