رسائی کے لنکس

logo-print

امریکہ: 17 برس بعد وفاقی سطح پر مجرم کو سزائے موت دی جائے گی


قتل کے مجرم ڈینئل لی کو ریاست انڈیانا کی ایک جیل میں پیر کو لیتھل انجیکشن لگا کر عدالتی فیصلے پر عمل درآمد کیا جائے گا۔ (فائل فوٹو)

امریکہ میں قتل کے الزام میں سزا یافتہ ایک مجرم کی سزائے موت پر پیر کو عمل درآمد کیا جا رہا ہے۔ یہ امریکہ میں 17 برس کے تعطل کے بعد وفاقی سطح پر کسی بھی مجرم کو دی جانے والی موت کی پہلی سزا ہو گی۔

امریکہ کی ایک وفاقی اپیلیٹ کورٹ نے اتوار کو مجرم ڈینئل لوئس لی کی موت کی سزا روکنے کے ذیلی عدالت کے حکم کو معطل کرتے ہوئے مجرم کی سزائے موت کے فیصلے کو برقرار رکھا تھا۔

سنتالیس سالہ ڈینئل لی کے اہلِ خانہ نے ذیلی عدالت میں مؤقف اختیار کیا تھا کہ وہ کرونا وائرس کی وجہ سے ڈینئل کی سزائے موت پر عمل درآمد کے وقت اپنی موجودگی یقینی نہیں بنا سکتے اس لیے سزا پر عمل درآمد کو ملتوی کیا جائے۔

عدالت نے جمعے کو درخواست منظور کرتے ہوئے ڈینئل کی سزائے موت پر عمل درآمد روک دیا تھا۔ تاہم محکمۂ انصاف نے ماتحت عدالت کے فیصلے کو ایپلیٹ کورٹ میں چیلنج کیا تھا اور استدعا کی تھی کہ مجرم کی سزائے موت پر عمل درآمد شیڈول کے مطابق کیا جائے۔

اتوار کو فیڈرل اپیلیٹ کورٹ نے قرار دیا کہ مجرم کے لواحقین کے پاس سزائے موت پر عمل درآمد میں تاخیر کا کوئی قانونی جواز نہیں ہے۔

عدالتی فیصلے کے بعد ڈینئل لی کو ریاست انڈیانا کی ایک جیل میں پیر کو زہر کا انجیکشن لگا کر موت کی نیند سلا دیا جائے گا۔

امریکہ میں سزائے موت بحال، انسانی حقوق کی تنظیموں کا احتجاج
please wait

No media source currently available

0:00 0:02:57 0:00

ڈینئل نے 1996 میں اسلحے کے ایک تاجر ولیم ملر، اُن کی اہلیہ اور آٹھ سالہ بیٹی کو قتل کیا تھا۔

امریکہ میں وفاق کی تحویل میں موجود قیدیوں کو سزائے موت دینے کا سلسلہ 2003 سے معطل تھا۔ لیکن رواں برس اپریل میں ایک وفاقی عدالت نے زہر کے انجیکشن کے ذریعے امریکی وفاق کی تحویل میں موجود مجرمان کی سزائے موت پر عمل درآمد کی اجازت دے دی تھی۔

عدالت کی جانب سے سزائے موت کی اجازت کے بعد اٹارنی جنرل ولیم بر نے حکم دیا تھا کہ چار مجرمان کی سزائے موت شیڈول کی جائے گی جس میں ڈینئل لوئس لی بھی شامل تھے۔

ڈینئل کے اہلِ خانہ نے محکمۂ انصاف اور صدر ڈونلڈ ٹرمپ سے اپیل کی ہے کہ ڈینئل کی سزائے موت پر عمل درآمد کے بجائے اسے عمر قید میں بدل دیا جائے۔

دوسری جانب اٹارنی جنرل ولیم بر نے خبر رساں ادارے 'ایسوسی ایٹڈ پریس' کو بتایا ہے کہ بیورو آف پریزنس نے کرونا وائرس کی وبا کے پیشِ نظر سزائے موت پر عمل درآمد کے لیے مناسب اقدامات کیے ہیں۔

اُن کے بقول سزائے موت کے وقت موجود مجرم کے اہلِ خانہ کا درجہ حرارت چیک کیا جائے گا اور ان کے لیے ماسک پہننا بھی لازم ہو گا۔

سرکاری اعداد و شمار کے مطابق امریکہ کی مختلف جیلوں میں قید سات ہزار سے زیادہ قیدیوں میں کرونا وائرس کی تشخیص ہو چکی ہے جن میں سے 5137 صحت یاب ہو چکے ہیں۔ مارچ سے اب تک لگ بھگ 100 قیدی اس وبا کے باعث ہلاک بھی ہو چکے ہیں۔

ادھر ناقدین کا کہنا ہے کہ سزائے موت پر عمل درآمد کی بحالی خطرناک اور سیاسی مقاصد کے لیے ہے۔ ٹرمپ حکومت غیر ضروری طور پر اس معاملے کو ہوا دے رہی ہے جس کی فی الوقت کوئی ضرورت نہیں ہے۔

فیس بک فورم

XS
SM
MD
LG