رسائی کے لنکس

logo-print

کم عمری میں پھانسی کی سزا پانے والا قیدی 21 سال بعد رہا


(فائل فوٹو)

زندگی کے 21 سال پھانسی کے انتظار میں گزارنے والے محمد اقبال کو 30 جون 2020 کو آخر کار رہائی کا پروانہ مل گیا۔ دو دہائیوں سے زائد کا انتظار ختم ہوا اور محمد اقبال اور اُس کے اپنوں کی دوری کا باب بند ہو گیا۔

محمد اقبال کو ڈکیتی کے دوران قتل کے الزام میں اُس وقت سزائے موت سنائی گئی جب وہ صرف 16 سال کے تھے۔ لیکن قانون کے باوجود اُن کی رہائی میں تاخیر ہوئی۔

منڈی بہاؤ الدین جیل سے رہائی کے وقت اُسے لینے وہ بھانجے اور بھتیجے پہنچے جو اُس کی جیل منتقلی کے بعد دنیا میں آئے تھے۔ گھر پہنچے تو بہن، بھابھی اور بھتیجیوں نے بھی خوب استقبال کیا۔

محمد اقبال نے وائس آف امریکہ سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ ایک قیدی کے لیے اس سے بڑی خوشی کی بات کیا ہو سکتی ہے کہ وہ موت کے منہ سے واپس آ جائے۔ میرے لیے نئی زندگی اور خوشی کے دن اب شروع ہوئے ہیں۔

ان کے بقول ایسا لگ رہا ہے کہ زندگی دوبارہ وہیں سے شروع ہوئی ہے جہاں سے چھوڑ کر گیا تھا۔ اب تو اپنے گھر اور گھر والوں کے حالات بہتر بنانے کے لیے زندگی وقف کروں گا۔

محمد اقبال کہتے ہیں کہ ابھی تو صرف اُن ہی چہروں کو جانتا ہوں جو جیل میں ملاقات کے لیے آتے تھے۔ باقی سب تو ابھی اجنبی ہیں جب کہ دنیا نئی لگ رہی ہے۔

انہوں نے کہا کہ "جیل کی زندگی عبرت ناک ہے لیکن اس کے باوجود میں نے وہاں سے اچھی چیزیں سیکھنے کی کوشش کی۔ مِڈل، میٹرک، قُرآن کی تعلیم اور کچھ دیگر کورسز کرنے میں وقت گزارا۔ جو وقت گزر جائے اُسے اچھا ہی کہنا چاہیے۔ لیکن زندگی کے اتنے قیمتی سال ضائع ہونے پر دکھ تو ہے۔"

محمد اقبال کی بہن صاحب سلطان خوشی کا اظہار کرتے ہوئے کہتی ہیں کہ اب وہ اپنے بھائی کی شادی کریں گی اور گھر کے بنے کھانے اپنے بھائی کو کھلائیں گی۔

محمد اقبال رہائی ملنے کے بعد اپنے اہل خانہ کے ہمراہ
محمد اقبال رہائی ملنے کے بعد اپنے اہل خانہ کے ہمراہ

محمد اقبال کو کس جُرم کی سزا ملی؟

انیس سو اٹھانوے میں ایک ڈکیتی کے دوران قتل کے الزام میں صوبہ پنجاب کے ضلع منڈی بہاؤ الدین کے علاقے میانوال رانجھا کا 16 سالہ اقبال جیل گیا اور پھر وہیں کا ہو کر رہ گیا۔

محمد اقبال کی بہن صاحب سلطان نے وائس آف امریکہ کو بتایا کہ اُن کی والدہ کی وفات کو ایک سال گزرا تھا جب ایک دن پولیس اُن کے گھر آئی۔

اُن کے بقول پولیس نے والد صاحب کو واقعہ بتاتے ہوئے اقبال کو اپنے ساتھ لے جانے کا کہا جس پر اُن کے والد نے مہلت مانگی کہ اُن کا بیٹا عمر میں چھوٹا ہے اس لیے بہتر ہے کہ وہ اپنے بیٹے کو خود ہی تھانے لے کر آئیں گے۔

صاحب سلطان گھر میں تو وہ کہتا رہا کہ میں نے کچھ نہیں کیا لیکن تھانے جانے کے بعد دورانِ تفتیش اقبال نے اعتراف جرم کر لیا۔ اس جرم میں اُن کے بھائی کے ساتھ چار بالغ افراد بھی ملوث تھے۔ صاحب سلطان کے مطابق یہ اُس کے ساتھی ہی تھے جنہوں نے اسے کہا کہ تم چھوٹی عمر کے ہو، تمہیں سزا نہیں ہو گی اس لیے تم قبول کر لو کہ یہ جرم تم نے کیا ہے۔ اس نے تو امداد کی اُن کی۔ چھوٹی عُمر کا تھا تبھی تو اس کی عقل نے کام نہیں کیا۔

اعترافِ جرم کے نتیجے میں 1999 میں دہشت گردی کی عدالت نے اقبال کو موت کی سزا سنائی۔ لیکن 'جوینائل جسٹس سسٹم آرڈیننس' 2000 کے تحت 2001 میں ایک صدراتی نوٹی فکیشن جاری ہوا جس کے تحت نابالغ مجرموں کو سزائے موت سے استثنی دے دیا گیا۔ اس کے بعد سزا میں رعایت محمد اقبال کا حق تھا جو ملنے میں اسے کئی سال لگ گئے۔

سزائے موت کے قیدیوں کی فلاح کے لیے کام کرنے والی تنظیم 'جسٹس پراجیکٹ پاکستان' کے ترجمان علی حیدر حبیب نے وائس آف امریکہ کو بتایا کہ 2001 میں جاری ہونے والے صدارتی نوٹی فکیشن کے مطابق نئے آرڈیننس کا اطلاق ماضی میں ہونے والی سزاؤں پر بھی ہونا تھا۔

اُن کے بقول مقدمے کی پیروی کے دوران 2003 میں محمد اقبال کے والد چل بسے۔ 2004 میں اقبال کے گھر والوں نے مدعیوں کے ساتھ راضی نامہ بھی کرلیا لیکن مقدمے میں دہشت گردی کی دفعات کے باعث راضی نامہ عدالت نے قبول نہیں کیا۔

رحم کی اپیلوں، نظر ثانی کی درخواستوں اور پاکستان میں پھانسیوں پر عمل درآمد روکنے کے حکومتی فیصلے کے باعث سالوں گزر گئے اور محمد اقبال پھانسی کے تختے پر چڑھنے سے بچتے گئے۔ 2016 میں جسٹس پراجیکٹ پاکستان نے اس کیس کی پیروی کا آغاز کیا۔ نئی رٹ پٹیشن سنتے ہوئے لاہور ہائی کورٹ نے جون 2020 کے آغاز میں محمد اقبال کی سزائے موت عمر قید میں بدل دی۔

عدالت کا کہنا تھا کہ پنجاب اور وفاقی حکومت کی جانب سے کی گئی تاخیر سے محمد اقبال کی عمر کا اہم حصہ جیل میں گزر گیا۔ پاکستان میں جوینائل جسٹس سسٹم 2000 بین الاقوامی دباؤ کے بعد ہی عمل میں لایا گیا تھا۔

محمد اقبال رہائی کے بعد جیل سے باہر آ رہے ہیں۔
محمد اقبال رہائی کے بعد جیل سے باہر آ رہے ہیں۔

علی حیدر حبیب کہتے ہیں کہ ہم نے اقبال کے کیس میں دیکھا کہ سب کچھ تھا، قانون بھی تھا، صدارتی نوٹی فکیشن بھی تھا۔ ایک خط بھی لکھا پنجاب حکومت نے لیکن اس کے باوجود اتنے سال لگ گئے۔

اُن کے بقول نابالغ مجرموں کے لیے قانون کی موجودگی کا ڈھنڈورا پیٹنے کے بجائے اس پر عمل درآمد بھی ہونا چاہیے۔

علی حیدر کہتے ہیں کہ عمر قید پاکستان میں عموماً 15 سے 20 سال تک کی ہوتی ہے جس کے بعد معافی ہوتی ہے، تو اقبال نے تو 20 سال سے زائد کا عرصہ جیل میں گزارا لہذٰا وہ تو معافی کا حق دار تھا۔

علی حیدر نے بتایا کہ اُن کا ادارہ دو مزید ایسے کیسز پر کام کر رہا ہے جس سے اندازہ لگایا جاسکتا ہے کہ پاکستان کی جیلوں میں کئی ایسے کم عمر قیدی قانون کی موجودگی کے باوجود انصاف ملنے کے انتظار میں زندگی گزار رہے ہوں گے۔

لیکن محمد اقبال کی رہائی کے بعد اُنہیں خوشی ہے کہ دیر سے ہی سہی ایک اچھا فیصلہ سامنے آیا اور یہ اُمید بھی ملتی ہے کہ پاکستان میں چیزیں بہتری کی طرف بڑھ رہی ہیں۔

علی پراُمید ہیں کہ شاید اس کیس کے فیصلے سے دیگر کم عمر قیدیوں کو بھی کوئی ریلیف مل سکے۔ اُن کے بقول یہ صرف جسٹس پراجیکٹ پاکستانی کی نہیں بلکہ ہر اُس تنظیم اور شخص کی جیت ہے جس نے اقبال کے لئے آواز اُٹھائی۔

اقبال کے خاندان نے اس مقدمے کی پیروی کرتے ہوئے اپنا سب کچھ گنوا دیا۔ صاحب سلطان کہتی ہیں کہ اُن کے والد اور پھر بھائی نے راضی نامہ کرتے ہوئے مدعیوں کو معاوضہ دینے کے لیے اپنی زمینیں فروخت کر دیں۔ مال مویشی بیچ دیے۔

اُن کے بقول وکلا کو بھی پیسے دیے یہاں تک کے بھائی سے ملاقات بھی پیسے دے کر ہی کر سکتے تھے۔ حالات خراب ہوتے گئے۔ جو کمائی کرتے تھے۔ اپنے بچوں یا گھر پر نہیں بلکہ اقبال پر لگا دیتے تھے۔

صاحب سلطان کے بیٹے تصور رانجھا اپنے ماموں کی جیل منتقلی کے وقت ایک سال کے تھے۔ تصور نے وائس آف امریکہ کو بتایا کہ اُن کا بچپن اپنی ماں کو بھائی کے غم میں نڈھال اور دعائیں مانگتے دیکھتے ہی گزرا۔ دوسرے بچوں کی طرح اُنہیں اپنی ماں کو چوڑیوں کا تحفہ دینے کی خواہش سینے میں ہی رہی کیوں کہ جب کبھی وہ اپنی والدہ کے لیے یہ تحفہ لائے اُنہوں نے یہ کہہ کر پہننے سے انکار کیا کہ جب تک اُن کا بھائی گھر واپس نہیں آئے گا وہ خوشیاں نہیں منائیں گی۔

تصور کو یاد ہے کہ وہ اُس عمر سے اپنی والدہ کے ساتھ جیل جا رہے ہیں جب اُنہیں یہ تو پتا تھا کہ وہ ماموں سے ملنے جا رہے ہیں لیکن اس رشتے کی اہمیت سے ناواقف تھے۔ جب پہلی بار موٹر سائیکل چلانا سیکھا اور والدہ کو سیر پر لے جانا چاہا تو تب بھی والدہ بھائی کے سلسلے میں کسی شخصیت سے ملنے لے گئیں۔

تصور پاکستان میں انصاف کے نظام پر شکوہ کرتے ہوئے کہتے ہیں کہ اپنے ماموں کا کیس اور اس میں ہونے والی پیش رفت دیکھ کر ہم کہہ سکتے ہیں پاکستان میں قانونی نظام بہت سست ہے۔ یہ معاملہ جلد ختم ہوسکتا تھا لیکن 20 ویں صدی سے نانا ابو نے ماموں کے پیچھے بھاگ دوڑ شروع کی۔ 21 ویں صدی میں بڑے ماموں عباس نے عدالتوں کے چکر کاٹے اور اب ایک سال سے میں جیل اور عدالتوں میں جاتا رہا۔

اُن کے بقول "جب ماموں اقبال جیل گئے تو میں ایک سال کا تھا اور اب وہ باہر آگئے ہیں تو میں 23 سال کا ہوں۔ تصور کے مطابق اب تو اُنہیں بھی قانونی داؤ پیچ سمجھ آنے لگے ہیں۔"

فیس بک فورم

XS
SM
MD
LG