رسائی کے لنکس

logo-print

امریکہ نے بچوں کے لیے فائزر ویکسین کی منظوری دے دی


کرونا کے خلاف تیار کی جانے والی فائزر کی ویکسین امریکہ میں بچوں کے لیے منظور کی جانے والی پہلی ویکسین ہے۔

امریکہ میں خوراک اور ادویات کی نگرانی کرنے والے ادارے (ایف ڈی اے) نے 12 سے 15 سال تک کی عمر کے بچوں کے لیے کرونا وائرس کے خلاف دوا ساز کمپنی فائزر کی ویکسین لگانے کی منظوری دے دی ہے۔

یو ایس فوڈ اینڈ ڈرگ ایڈمنسٹریشن نے پیر کو جاری بیان میں کہا ہے کہ ویکسین 12 سے 15 سال کے بچوں کے لیے محفوظ اور مؤثر ہے۔

فائزر کی ویکسین کو امریکہ میں پہلے ہی 16 سال سے زائد عمر کے افراد کو ہنگامی استعمال کے تحت لگایا جا رہا ہے۔

ایف ڈی اے کی قائم مقام کمشنر جینیٹ ووڈ کوک نے اپنے بیان میں کہا ہے کہ "فائزر ویکسین کی منظوری سے نوجوان آبادی کو کرونا سے بچایا جا سکے گا جس کے بعد معمولاتِ زندگی کی طرف واپسی اور وبا کا خاتمہ ممکن ہو سکے گا۔"

یاد رہے کہ کرونا کے خلاف تیار کی جانے والی فائزر کی ویکسین امریکہ میں بچوں کے لیے منظور کی جانے والی پہلی ویکسین ہے۔

فائزر نے رواں برس مارچ میں امریکہ میں 12 سے 14 سال کے 2260 بچوں کو آزمائشی طور پر ویکسین لگانے کے بعد اپنی تحقیق کے ابتدائی نتائج جاری کیے تھے۔

نتائج سے ظاہر ہوا تھا کہ ویکسین لگوانے والے بچوں میں سے کوئی بھی کووڈ 19 سے متاثر نہیں ہوا اور ان میں سے کسی کو بھی سنگین اثرات کا سامنا بھی نہیں رہا۔

ایف ڈی اے کی جانب سے بچوں کے لیے کرونا ویکسین کی منظوری کا فیصلہ ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب امریکی حکومت بڑی تعداد میں آبادی کو ویکسین لگانے کی کوشش کر رہی ہے۔

امکان ہے کہ مڈل اور ہائی اسکول کے لاکھوں طالب علموں کو موسمِ خزاں میں اسکول شروع ہونے سے پہلے ویکسین لگائی جا سکے گی۔

اگرچہ کرونا میں مبتلا ہونے والے زیادہ تر بچوں میں وائرس کی علامات یا تو انتہائی کم یا ظاہر ہی نہیں ہوتیں اور وہ دوسروں تک وائرس منتقل کر رہے ہوتے ہیں۔

فیس بک فورم

XS
SM
MD
LG