رسائی کے لنکس

دہشت گردوں کی پناہ گاہیں پاکستان نہیں افغانستان میں ہیں: تہمینہ جنجوعہ


پاکستانی سیکرٹری خارجہ تہمینہ جنجوعہ (فائل فوٹو)

پاکستان کی سیکرٹری خارجہ نے ایوان بالا کے قانون سازوں کو آگاہ کیا کہ دہشت گرد تنظیموں کی محفوظ پناہ گاہیں پاکستان میں نہیں بلکہ مبینہ طور پر افغانستان میں ہیں جہاں ملک کے 45 فیصد علاقوں میں افغان حکومت کی عملداری نہیں ہے۔

منگل کو سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے امور خارجہ کے اجلاس میں سیکرٹری خارجہ تہمینہ جنجوعہ کا کہنا تھا کہ پاکستان سے دہشت گرد گروپوں کا صفایا کر دیا گیا ہے اور امریکہ کو اس بارے میں بھی آگاہ کر دیا گیا ہے کہ بھارت کی خفیہ ایجنسی 'را' مبینہ طور پر پاکستان میں دہشت گرد کارروائیوں کے لیے افغان سرزمین استعمال کر رہی ہے۔

ان کے بقول خطے میں بھارت کی بالادستی پاکستان کے لیے قابل قبول نہیں۔

نئی دہلی اور کابل پاکستان کے ایسے دعوؤں کو مسترد کرتے آئے ہیں۔

تہمینہ جنجوعہ نے قانون سازوں کو یہ بھی بتایا کہ امریکہ نے پاکستان کو یہ یقین دلایا ہے کہ افغانستان کی سرزمین پاکستان کے خلاف استعمال نہیں ہونے دی جائے گی۔

پاکستانی سیکرٹری خارجہ کا یہ بیان ایک ایسے وقت سامنے آیا ہے جب ایک روز قبل ہی اسلام آباد میں امریکی سفیر ڈیوڈ ہیل نے اس توقع کا اظہار کیا تھا کہ پاکستان اپنی سرزمین پر مبینہ طور پر موجود حقانی نیٹ ورک سمیت تمام دہشت گرد تنظیموں کے خلاف موثر کارروائی کرے گا۔

انھوں نے انسداد دہشت گردی کے لیے پاکستان کی قربانیوں کو سراہتے ہوئے کہا تھا کہ باہمی تعاون سے دونوں ملک بہت کچھ حاصل کر سکتے ہیں۔

پاکستان اور امریکہ کے تعلقات تو سردمہری کا شکار ہی چلے آ رہے تھے لیکن اگست میں صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی طرف سے افغانستان اور جنوبی ایشیا سے متعلق نئی پالیسی کے اعلان کے بعد سے دو طرفہ اعلیٰ سطحی رابطوں کے باوجود آئے روز دونوں جانب سے ایسے بیانات تواتر سے سامنے آ رہے ہیں۔

سینیئر تجزیہ کار ڈاکٹر اے زیڈ ہلالی کے نزدیک امریکی سفیر کا بیان کسی قدر حوصلہ افزا ہے اور موجودہ صورتحال میں دونوں ملکوں کو سفارتی ذرائع سے ہی ابہام دور کرنے کے لیے کوششوں کو تیز کرنا ہو گا۔

وائس آف امریکہ سے گفتگو میں ان کا کہنا تھا کہ تعلقات میں بہتری کے لیے پاکستان تو امریکی تحفظات دور کرنے کی کوشش کرتا دکھائی دیتا ہے لیکن ضروری ہے کہ امریکہ ایسے اقدام کرے جس سے اسلام آباد کا اعتماد بھی واشنگٹن پر بحال ہو سکے۔

"تناؤ کم ہونا چاہیے، بات چیت جاری رہنی چاہیے پاکستان کے اعتماد کے لیے امریکہ کو تھوڑا سا آگے بڑھنا ہوگا جیسے کہ توانائی، سرمایہ کاری کے شعبے میں اقتصادی ریلیف دینا ہوگی بھارت پر دباؤ ڈالے کہ وہ پاکستان کے ساتھ مذاکرات کرے تو ان سے پاکستان وہ بھی کرسکتا ہے جو شاید پاکستان سے توقع نہیں کی جا رہی۔"

دریں اثناء منگل کو ہی ایوان بالا میں توجہ دلاؤ نوٹس پر بات کرتے ہوئے وزیر خارجہ خواجہ آصف کا کہنا تھا کہ ان کے امریکی ہم منصب ریکس ٹلرسن نے یہ بات واضح کی تھی کہ امریکہ، افغانستان میں بھارت کے کردار کی جو بات کرتا ہے وہ ایسا نہیں کہ جس سے پاکستان کے خدشات کو تقویت ملتی ہو۔

فیس بک فورم

XS
SM
MD
LG