رسائی کے لنکس

امریکی شہریوں کے شمالی کوریا کے سفر پر پابندی عائد


فائل

محکمۂ خارجہ نے شمالی کوریا میں پہلے سے موجود امریکی شہریوں کوبھی ہدایت کی ہے کہ وہ یکم ستمبر سے قبل وہاں سے نکل جائیں۔

امریکی محکمۂ خارجہ نے امریکی شہریوں کے شمالی کوریا کے سفر پر پابندی عائد کردی ہے جس کا اطلاق یکم ستمبر سے ہوگا۔

محکمۂ خارجہ نے شمالی کوریا میں پہلے سے موجود امریکی شہریوں کوبھی ہدایت کی ہے کہ وہ یکم ستمبر سے قبل وہاں سے نکل جائیں۔

پابندی کے اطلاق کے بعد شمالی کوریا دنیا کو وہ واحد ملک ہوگا جہاں امریکی پاسپورٹ پر سفر نہیں کیا جاسکے گا۔

محکمۂ خارجہ کی جانب سے بدھ کو جاری کیے جانے والے ایک بیان کے مطابق سفری پابندی کی مدت ایک سال ہوگی جس میں توسیع یا خاتمہ وزیرِ خارجہ کی صوابدید پر ہوگا۔

بیان کے مطابق شمالی کوریا جانے کے خواہش مند امریکی صحافیوں اور امدادی کارکنوں کو پابندی سے استثنیٰ کے لیے محکمے کو درخواست دینا ہوگی۔

امریکی حکومت نے گزشتہ ماہ عندیہ دیا تھا کہ وہ گرفتاریوں اور طویل عرصے تک حراست میں رکھے جانے کے خدشے کے پیشِ نظر امریکی شہریوں کے شمالی کوریا کے سفر پر پابندی عائد کرسکتی ہے۔

سفری پابندی کا اعلان ایسے وقت سامنے آیا ہے جب امریکہ اور شمالی کوریا کے درمیان کشیدگی عروج پر ہے۔

اس کشیدگی کی وجہ شمالی کوریا کی جانب سے حال ہی میں کیے جانے والے بین البراعظمی میزائل کے وہ تجربات ہیں جس کی مار امریکی حکام کے مطابق امریکہ تک ہے۔

شمالی کوریا نے گزشتہ سال ایک امریکی طالبِ علم اوٹو وارم بیئر کو 15 سال قید بامشقت کی سزا سنائی تھی لیکن اسےرواں سال جون میں کوما کی حالت میں امریکہ کے حوالے کردیا تھا۔

وارم بیئر امریکہ پہنچنے کے ایک ہفتے کے اندر ہی انتقال کرگیا تھا اور اس کی موت اور کوما میں جانے کی وجوہات تاحال سامنے نہیں آئی ہیں۔

شمالی کوریا کی حکومت نے وارم بیئر کی موت کو پراسرار قرار دیتے ہوئے ان الزامات کی تردید کی ہے کہ وہ دورانِ حراست شدید تشدد اور مارپیٹ کے باعث کوما میں چلا گیا تھا اور یہی اس کی موت کی وجہ بنی۔

شمالی کوریا کی تحویل میں اس وقت بھی امریکہ اور جنوبی کوریا کی دہری شہریت رکھنے والے تین افراد کے علاوہ کینیڈین، جنوبی کورین اور جاپانی باشندے بھی موجود ہیں جن تک عموماً ان ملکوں کے سفارتی نمائندوں کو بھی رسائی نہیں دی جاتی۔

فیس بک فورم

XS
SM
MD
LG