رسائی کے لنکس

logo-print

جنوب مشرقی ایشیا میں تارکین وطن کو فوری بچانے کی ضرورت: امریکہ


نقل مکانی کی بین الاقوامی تنظیم (آئی او ایم) کے ڈائریکٹر ولیم لیسی نے کہا کہ سمندر میں پھنسے تقریباً 3,900 تارکین وطن کو سب سے پہلے خشکی پر منتقل کرنے کی فوری ضرورت ہے۔

امریکہ نے کہا ہے کہ جنوب مشرقی ایشیا کے سمندروں میں کشتیوں میں پھنسے ہوئے ہزاروں تارکین وطن کو فوری طور پر بچانے کی ضرورت ہے۔

امریکہ کے معاون وزیر خارجہ این رچرڈ نے بنکاک میں جمعہ کو نامہ نگاروں کو کہا کہ ’’ہمیں ان لوگوں کو فوری طور پر بچانا ہو گا۔‘‘

این رچرڈ تھائی لینڈ میں انسانی حقوق کی تنظیموں اور جنوب مشرقی ایشیائی ممالک کے جمعہ کو ہونے والے ایک روزہ اجلاس میں شرکت کریں گی ۔ یہ اجلاس بحیرہ انڈامان اور خلیج بنگال میں کشتیوں میں پھنسے ہوئے تارکین وطن کے مسئلے کو حل کرنے کی اجتماعی کوششوں کا ایک حصہ ہے۔

نقل مکانی کی بین الاقوامی تنظیم (آئی او ایم) کے ڈائریکٹر ولیم لیسی نے کہا کہ سمندر میں پھنسے تقریباً 3,900 تارکین وطن کو سب سے پہلے خشکی پر منتقل کرنے کی فوری ضرورت ہے۔

جنوب مشرقی ایشیا بنگلہ دیش اور میانمار سے ہزاروں تارکین وطن کی تھائی لینڈ کے راستے ملائیشیا اور انڈونیشیا اسمگلنگ سے پیدا ہونے والے انسانی المیے سے برسرپیکار ہے۔

بنگلہ دیش سے تعلق رکھنے والے تارکین وطن غربت کی وجہ سے اپنا وطن چھوڑ رہے ہیں جبکہ روہنگیا برادری کے افراد زیادہ تر میانمار کی بدھ اکثریت کی طرف سے روا رکھے جانے والے امتیازی سلوک کی وجہ سے نقل مکانی کر رہے ہیں۔

اس ماہ 3,500 سے زائد تارکین وطن ملائیشیا، انڈونیشا اور تھائی لینڈ کے ساحلوں پر یا تو تیر کر پہنچے یا انہیں بچالیا گیا۔

بدھ روحانی پیشوا دلائی لاما نے نے برما کی امن انعام یافتہ رہنما آنگ سان سوچی سے کہا ہے کہ وہ میانمار میں روہنگیا برادری کے افراد کو پیش آنے والے ظلم و جبر کے خلاف آواز بلند کریں۔ آسٹریلیا کے اخبار 'دی آسٹریلین' کو دیے گئے ایک انٹرویو میں تبت کے روحانی پیشوا نے میانمار کی جمہوریت نواز رہنما سے اپیل کی کہ وہ روہنگیا برادری کے افراد کی حالت زار کے خلاف اپنی آواز اٹھائیں۔

XS
SM
MD
LG