رسائی کے لنکس

شمالی کوریا کے خلاف طاقت استعمال کرسکتے ہیں، امریکہ


اقوامِ متحدہ میں امریکہ کی سفیر بدھ کو سلامتی کونسل میں شمالی کوریا پر ہونے والی بحث میں خطاب کر رہی ہیں

نکی ہیلی نے سلامتی کونسل کے ارکان کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ اگر ضرورت پڑی تو امریکہ اپنی اس طاقت استعمال کرے گا لیکن اس کی خواہش ہے کہ معاملات اس رخ پر نہ جائیں۔

امریکہ نے کہا ہے کہ وہ شمالی کوریا کی جانب سے بین البراعظمی میزائل کے تجربے کے بعد لاحق ہونے والے خطرات کے پیشِ نظر فوجی طاقت بھی استعمال کرنے کے لیے تیار ہے۔

بدھ کی شب اقوامِ متحدہ کی سلامتی کونسل کے ایک ہنگامی اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے عالمی ادارے میں امریکہ کی سفیر نکی ہیلی نے کہا کہ ان کا ملک اپنے اور اپنے اتحادیوں کے دفاع کے لیے کوئی بھی قدم اٹھاسکتا ہے۔

انہوں نے کہا کہ امریکہ کی مسلح افواج خطرات کا مقابلہ کرنے کی امریکہ صلاحیت کا ایک اہم جز ہیں جنہیں کوئی نظر انداز نہیں کرسکتا۔

نکی ہیلی نے سلامتی کونسل کے ارکان کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ اگر ضرورت پڑی تو امریکہ اپنی اس طاقت استعمال کرے گا لیکن اس کی خواہش ہے کہ معاملات اس رخ پر نہ جائیں۔

سلامتی کونسل کا یہ ہنگامی اجلاس شمالی کوریا کی جانب سے منگل کو کیے جانے والے اپنے پہلے بین البراعظمی میزائل کے بظاہر کامیاب تجربے کے بعد طلب کیا گیا تھا۔

امریکی حکام کا بھی کہنا ہے کہ میزائل تجربے سے متعلق ملنے والی معلومات سے ظاہر ہوتا ہے کہ میزائل بین البراعظمی تھاجو امکان ہے کہ امریکہ کی ریاست الاسکا تک مار کرسکتا ہے۔

اقوامِ متحدہ نے شمالی کوریا کے جوہری اور میزائل پروگرام پر کڑی پابندیاں عائد کر رکھی ہیں لیکن اس کے باوجود شمالی کوریا وقتاً فوقتاً میزائل تجربات کرتا رہتا ہے۔

تاہم پیانگ یانگ حکومت کی جانب سے بین البراعظمی میزائل کا یہ پہلا تجربہ تھا جس کی امریکہ سمیت بین الاقوامی برادری نے شدید مذمت کی ہے۔

امریکی فوجی حکام کا کہنا ہے کہ شمالی کوریا کے نئے میزائل تجربے سے متعلق انہیں کئی خدشات لاحق ہیں البتہ اس تجربے سے امریکہ اور خطے میں اس کے اتحادیوں – جنوبی کوریا اور جاپان - کو لاحق خطرے کی نوعیت تاحال بہت سنگین نہیں۔

خطے میں جنوبی کوریا اور جاپان امریکہ کے اہم اتحادی ہیں جہاں بالترتیب ساڑھے 28 ہزار اور 50 ہزار امریکی فوجی تعینات ہیں۔

بدھ کو سلامتی کونسل کے اجلاس سے خطاب میں امریکی سفیر نے اعلان کیا کہ اقوامِ متحدہ جلد شمالی کوریا کے خلاف مزید پابندیوں کا اعلان کرے گی۔

انہوں نے کہا کہ پابندیوں سے متعلق قرارداد کا مسودہ آئندہ چند روز میں سلامتی کونسل کے ارکان کو بھیج دیا جائے گا تاکہ شمالی کوریا کی نئی اشتعال انگیزی کا مْسِکت جواب دیا جاسکے۔

اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے عالمی ادارے میں چین کے سفیر لیو جییے نے شمالی کوریا کے میزائل تجربے کو "ناقابلِ قبول" اور اقوامِ متحدہ کی قراردادوں کی کھلی خلاف ورزی قرار دیا۔

تاہم چینی سفیر نے کہا کہ ان کا ملک نہیں سمجھتا کہ طاقت کے استعمال کے ذریعے جزیرہ نماکوریا میں جاری بحران حل کیا جاسکتا ہے۔

چینی سفیر نے اپنے خطاب میں ایسا کوئی عندیہ بھی نہیں دیا کہ آیا ان کا ملک شمالی کوریا کے خلاف نئی پابندیوں کی حمایت کرے گا یا نہیں۔

چین، شمالی کوریا کا واحد اتحادی ملک ہے جس کے پیانگ یانگ کی کمیونسٹ حکومت کے ساتھ قریبی تجارتی اور معاشی تعلقات قائم ہیں۔

فیس بک فورم

XS
SM
MD
LG