رسائی کے لنکس

شمالی کوریا کی جانب سے منگل کو میزائل تجربے کے اعلان کے چند ہی گھنٹوں بعد، روسی صدر ولادیمیر پیوٹن نے اعلان کیا کہ وہ چین کے اپنے ہم منصب، شی جن پنگ کے ساتھ رابطے میں رہیں گے، تاکہ شمالی کوریا کے میزائل کے بڑھتے ہوئے خدشات سے بچاؤ کو فروغ دیا جا سکے

روس اور چین نے اس ضرورت سے اتفاق کیا ہے کہ شمالی کوریا کے میزائل اور جوہری پروگرام کے ساتھ ساتھ امریکہ اور جنوبی کوریا کی جانب سے بڑی سطح کی مشترکہ فوجی مشقوں کو منجمد کردینا چاہیئے۔

شمالی کوریا کی جانب سے منگل کو میزائل تجربے کے اعلان کے چند ہی گھنٹوں بعد، روسی صدر ولادیمیر پیوٹن نے اعلان کیا کہ وہ چین کے اپنے ہم منصب، شی جن پنگ کے ساتھ رابطے میں رہیں گے، تاکہ شمالی کوریا کے میزائل کے بڑھتے ہوئے خدشات سے بچاؤ کو فروغ دیا جا سکے۔

دونوں سربراہان کی ماسکو میں ملاقات کے بعد، اخباری کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے پوٹن نے کہا کہ ’’شمالی کوریا کے معاملے کا حل تلاش کرنے کے حوالے سے، ہم نے اپنی مشترکہ کوششوں کو فروغ دینے پر اتفاق کیا تاکہ روس کے پیش کردہ اقدامات کے سلسلے کو آگے بڑھایا جاسکے؛ شمالی کوریا کی جوہری سرگرمیوں کو منجمد کرنے کے چین کے منصوبے پر عمل درآمد ہو، اور ساتھ ہی امریکہ اور جنوبی کوریا کی مشترکہ فوجی مشقوں کو روکا جائے‘‘۔

شمالی کوریا نے کہا ہے کہ اُس نے بین البراعظمی بیلسٹک میزائل کا ایک کامیاب تجربہ کیا ہے، جو شمالی کوریا کی جوہری ہتھیاروں کو تشکیل دینے کی صلاحیت کے حوالے سے فیصلہ کُن سرگرمی ہے، حالانکہ بین الاقوامی برادری اُسے بارہا انتباہ جاری کرتی رہی ہے۔

فیس بک فورم

XS
SM
MD
LG