رسائی کے لنکس

logo-print

امریکہ میں 16 سال بعد سزائے موت کی بحالی کا عندیہ


کیلی فورنیا کا ایک قیدخانہ (فائل)

امریکی محکمہ انصاف نے جمعرات کے روز اعلان کیا کہ 16 برس کے وقفے کے بعد امریکی حکومت سزائے موت بحال کرنے کا ارادہ رکھتی ہے، اور قتل کے پانچ مجرموں کو دی گئی موت کی سزا پر آئندہ چند ماہ کے دوران عمل درآمد ہوگا۔

محکمے کے ایک بیان کے مطابق، اٹارنی جنرل، ولیم بَر نے ’فیڈرل بیورو آف پرزنز‘ کو ہدایت دی ہے کہ وہ سزائے موت کے ضابطوں کو آخری شکل دے، جس کے بعد پانچ قیدیوں کی موت کی سزا پر عمل درآمد ہوگا۔ ان میں سے تین مجرمان کو دسمبر جب کہ دو کو جنوری 2020ء میں سخت ترین سزا دی جائے گی۔

امریکہ میں سال 2003 میں موت کی سزا پر آخری بار عمل درآمد کیا گیا تھا، جب خلیج کی جنگ کے سابق فوجی، لوئی جونز کو موت کی سزا دی گئی تھی۔ مجرم نے ایک 19 برس کے فوجی کو اغوا کرکے قتل کیا تھا۔

موت کی سزا سے متعلق اطلاعاتی مرکز کے مطابق، امریکہ میں وفاقی عدالتوں کی جانب سے 65 مجرمان کو موت کی سزا سنائی گئی ہے۔ امریکہ کی 50 میں سے نصف ریاستوں میں موت کی سزا کے قوانین موجود ہیں۔

ایک بیان میں، بَر نے کہا ہےکہ ’’کانگریس کے دونوں ایوانوں نے قانون سازی منظور کی ہے، جس پر صدر دستخط کرچکے ہیں، جس میں موت کی سزا کی اجازت دی گئی ہے‘‘۔

انھوں نے کہا ہے کہ دونوں جماعتوں کی حکومتوں کے دوران امریکی محکمہ انصاف سنگین نوعیت کے مجرمان کے لیے موت کی سزا پر عمل درآمد کی اجازت دے چکا ہے، جن میں یہ پانچ قاتل بھی شامل ہیں، جنھیں منصفانہ اور تفصیلی سماعتوں کے بعد جیوری نے سزا سنائی تھی۔

ان پانچ مجرمان میں ڈینئیل لیوس لی شامل ہے جو سفید فام بالادستی کے گروپ کا رکن ہے، جس نے 1999ء میں تین افراد پر مشتمل ایک خاندان کو قتل کیا تھا، جس میں ایک آٹھ سالہ بچی بھی شامل تھی۔ محکمے نے بتایا ہے کہ پانچوں سزائے موت کے مجرمان نے رحم کی اپیلیں دائر کی تھیں، جنہیں مسترد کیا جا چکا ہے۔

سال 1972 میں امریکہ میں سخت ترین سزا ختم کردی گئی تھی، جب امریکی عدالت عظمیٰ نے سزائے موت کو ’’ظالمانہ سزا‘‘ قرار دیا تھا۔ تاہم، بعد ازاں، 1988ء میں اسے جزوی طور پر بحال کیا گیا تھا، جب وفاقی حکومت نے تین قیدیوں کی سزائے موت پر عمل درآمد کیا تھا۔

امریکہ وہ واحد مغربی ملک ہے جہاں ابھی تک موت کی سزا دی جاتی ہے۔ اس وقت ملک کی 29 ریاستوں میں موت کی سزا کے قوانین موجود ہیں۔ گذشتہ سال، امریکہ میں 25 مجرمان کو سزائے موت دی گئی تھی۔ یورپ میں موت کی سزا ختم ہوچکی ہے، جہاں صرف بیلاروس وہ ملک ہے جہاں سخت ترین سزا کا تصور موجود ہے۔

فیس بک فورم

XS
SM
MD
LG