رسائی کے لنکس

logo-print

امریکہ اور چین ایک دوسرے کی سائبر جاسوسی روکنے پر متفق


پریس کانفرنس میں صدر اوباما نے صحافیوں کو بتایا کہ فریقین کو اس حقیقت کا ادراک ہے کہ ان کے درمیان اختلافات موجود ہیں لیکن اس کے باوجود انہوں نے کئی معاملات پر تعاون مزید وسیع کرنے پر اتفاق کیا ہے۔

امریکہ اور چین نے تجارتی رازوں اور حقوقِ دانش کی سائبر چوری اور ان کی چوری کی کوششوں میں مدد فراہم نہ کرنے پر اتفاق کیا ہے۔

جمعے کو وہائٹ ہاؤس میں ملاقات کے بعد ایک مشترکہ پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے صدر براک اوباما اور ان کے چینی ہم منصب ژی جن پنگ نے کہا کہ دونوں ممالک ایک دوسرے کی سائبر جاسوسی روکنے کے اقدامات کرنے اور انٹرنیٹ کے ذریعے تجارتی راز نہ چرانے پر متفق ہوگئے ہیں۔

پریس کانفرنس میں صدر اوباما نے صحافیوں کو بتایا کہ فریقین کو اس حقیقت کا ادراک ہے کہ ان کے درمیان اختلافات موجود ہیں لیکن اس کے باوجود انہوں نے کئی معاملات پر تعاون مزید وسیع کرنے پر اتفاق کیا ہے۔

چین کے صدر ژی جن پنگ کا یہ امریکہ کا پہلا سرکاری دورہ ہے جس کے دوران امکان تھا کہ امریکی صدر چین کی جانب سے امریکہ کی سائبر جاسوسی اور امریکی کمپنیوں کے تجارتی رازوں کی مبینہ چوری کا معاملہ اٹھائیں گے۔

جمعے کو اپنے چینی ہم منصب سے ملاقات کےبعد صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے صدر اوباما نے واضح کیا کہ انہوں نے چین کے صدر کے سامنے امریکی کمپنیوں اور شہریوں کو لاحق سائبر خطرات کا ذکر کیا ہے اور انہیں کہا ہے کہ یہ سلسلہ فوراً رکنا چاہیے۔

وہائٹ ہاؤس حکام کا کہنا ہے کہ دونوں رہنماؤں نے سائبر سکیورٹی سے متعلق معاملات پر تجربہ کار ماہرین پہ مشتمل ایک گروپ قائم کرنے کا فیصلہ کیا ہے جس کے سالانہ دو اجلاس ہوا کریں گے۔

دونوں رہنماؤں نے سائبر کرائم روکنے کے لیے بھی ایک اعلیٰ سطحی گروپ کے قیام کی منظوری دی ہے جس کا پہلا اجلاس آئندہ تین ماہ میں بلایا جائے گا۔

اس سے قبل صدر ژی جمعے کو وہائٹ ہاؤس پہنچے تو ان کا شاندار استقبال کیا گیا۔ استقبالیہ تقریب صدارتی محل کے جنوبی باغ میں ہوئی جہاں مہمان صدر نے گارڈ آف آنر کا معائنہ کیا جب کہ انہیں 21 توپوں کی سلامی بھی پیش کی گئی۔

دونوں رہنماؤں کی ملاقات کے بعد جاری کیے جانے والے ایک مشترکہ اعلامیے کے مطابق دونوں ملکوں نے گرین ہاؤس گیسوں کےاخراج میں کمی، فوجی ہاٹ لائن کے قیام اور کئی دیگر معاہدوں پر بھی اتفاق کیا ہے۔

XS
SM
MD
LG