رسائی کے لنکس

logo-print

امریکہ چین کشیدگی ہمیں کہاں لے جائے گی؟


فائل

گزشتہ کچھ عرصے سے امریکہ اور چین کے درمیان کشیدگی میں اضافہ دیکھنے میں آرہا ہے اور دونوں ملکوں کے درمیان سخت الفاظ کا تبادلہ اس کا مظہر ہے۔

ابھی 17 جون کی بات ہے کہ امریکہ اور چین کے دو اعلی ٰسفارتکاروں کے درمیان ملاقاتیں ہوئیں، لیکن ان کو اتنی اہمیت بھی نہیں دی گئی کہ اس کی کوئی تصویر جاری کی جاتی۔

سفارتی ذرائع کے مطابق، اس ملاقات کی خواہش کا اظہار چین نے کیا تھا۔ یہ ملاقات ایسے وقت میں ہوئی جب بہت سے مسائل پر دونوں ملکوں کے درمیان کشیدگی اپنے عروج پر بتائی جاتی ہے۔

امریکہ کرونا وائرس کے حوالے سے چین کو یہ کہتے ہوئے تنقید کا نشانہ بناتا رہا ہے کہ اس نے اس وائرس کے پھیلاؤ سے نمٹنے میں کوتاہی سے کام لیا اور مبینہ طور پر صحیح اور بروقت معلومات مہیا نہیں کیں۔ چین پر امریکہ کی نکتہ چینی صرف اسی مسئلے تک محدود نہیں بلکہ صدر ٹرمپ نے ایک حالیہ ریلی میں ہانگ کانگ میں چین کی کارروائیوں کو بھی نکتہ چینی کا نشانہ بناتے ہوئے کہا کہ یہ ان تازہ ترین اقدامات کا حصہ ہے، جن سے ہانگ کانگ کی دیرینہ اور قابل افتخار حیثیت مجروح ہورہی ہے۔

وائس آف امریکہ کے لئے نامہ نگار اسٹیو ریڈیش نے اپنی رپورٹ میں بتایا ہے کہ سترہ جون کو ہوائی میں امریکہ کے وزیر خارجہ مائیک پومپیو اور ان کے چینی ہم منصب یانگ چو کے درمیان ہونے والی ملاقات کا کوئی خاطر خواہ نتیجہ نہیں نکلا۔

اس ملاقات کو ابھی دو دن ہی گزرے تھے کہ پومپیو نے کوپن ہیگن میں ایک اجلاس میں چین کے عزائم پر تنقید کرتے ہوئے الزام لگایا کہ اس نے ایک ایسی سائبر مہم چلا رکھی ہے جس کا مقصد امریکہ اور یورپ کے درمیان تعلقات میں دراڑیں پیدا کرنا ہے۔

پومپیو نے اس خیال کا بھی اظہار کیا کہ چین ترقی پذیر ملکوں کو قرضوں میں جکڑ رہا ہے اور انھیں محتاج بنا رہا ہے۔ ان کے الفاظ میں چین کے سرکاری اداروں کی جانب سے کسی بھی بیرونی سرمایہ کاری پر کڑی نگاہ رکھنے کی ضرورت ہے۔

دوسری جانب چینی وزارت خارجہ کی ایک بریفنگ میں ترجمان نے پومپیو پر الزام لگایا کہ وہ چین اور دوسرے ملکوں کے درمیان اختلافات پیدا کرنے کی کوشش کررہے ہیں۔ ترجمان ژولی جیان نے کہا کہ پومپیو نے ایک مرتبہ پھر چین کے خلاف، بقول ان کے، بے بنیاد الزامات لگائے ہیں۔

انھوں نے یہ بھی کہا کہ اس کا کوئی فائدہ نہیں، بلکہ اس سے سرد جنگ کی ذہنیت اور نظریاتی تعصبات مزید آشکار ہوتے ہیں۔

ادھر تجزیہ کاروں کے مطابق، جنوبی بحیرہ چین سے لے کر بھارت کی سرحد تک چین اپنی فوجی قوت کا مظاہرہ کرکے اپنی موجودگی کا احساس دلانا چاہتا ہےجو واشنگٹن کے لئے ایک بڑا چیلنج ہے۔

مبصرین کا خیال ہے کہ یہ صورتحال بدلتے ہوئے بین الاقوامی تناظر میں، جب طاقت کے محور بدلتے نظر آتے ہیں، اپنے اپنے مفادات کے تحفظ اور انھیں آگے بڑھانے کی کوششوں کی عکاس ہے۔ تاہم، یہ پتا نہیں کہ آخر یہ ہمیں کہاں لے جائے گی؟

فیس بک فورم

XS
SM
MD
LG