رسائی کے لنکس

صدر ٹرمپ نے چین امریکہ تجارت کی تحقیقات کا حکم دے دیا


صدر ٹرمپ چین کے تجارتی طرزعمل پر تحقیقات سے متعلق اپنا حکم نامہ دکھا رہے ہیں۔ 14 اگست 2017

صدر ٹرمپ یہ چاہتے ہیں کہ تجارتی أمور کے عہدے دار چین کے اس طرز عمل کا جائزہ لیں کہ وہ امریکی کمپنیوں پر یہ زور دیتا ہے کہ وہ چین میں کاروبار کرنے کے لیے انٹلکچول معلومات کو افشا کرے۔

صدر ٹرمپ نے پیر کے روز اس بارے میں تحقیقات کا حکم دیا کہ آیا چین امریکی انٹلکچول پراپرٹی کی چوری تو نہیں کر رہا ، تاہم چین کے پیشگی خبردار کیا ہے کہ تجارت کی جنگ میں نقصان دونوں ہی ملکوں کو اٹھانا پڑے گا۔

صدر نیوجرسی میں واقع گولف کے تفریحی مقام سے اپنی تعطیلات کے دوران واشنگٹن واپس آئے اور ایک انتظامی حکم پر دستخط کیے جس میں امریکہ کے تجارت سے متعلق نمائندے رابرٹ لائٹ ہزر کو چین کی جانب سے مبینہ طور پر امریکی ٹیکنالوجی اور انٹلکچول پراپرٹی چرانے کے خدشات کی تحقیقات کے لیے کہا گیا ہے۔

صدر ٹرمپ یہ چاہتے ہیں کہ تجارتی أمور کے عہدے دار چین کے اس طرز عمل کا جائزہ لیں کہ وہ امریکی کمپنیوں پر یہ زور دیتا ہے کہ وہ چین میں کاروبار کرنے کے لیے انٹلکچول معلومات کو افشا کرے۔

امریکی صدر کا کہنا تھا کہ ہم اپنے کارکنوں اور اپنی ایجادات کا تحفظ کریں گے۔

انہوں نے تحقیقات کو ایک بڑا قدم قرار دیتے ہوئے کہا کہ یہ تو محض آغاز ہے۔

اگر امریکہ اس مقدمے کو آگے بڑھاتا ہے تو پھر وہ آخرکار تجارت کے عالمی ادارے سے کہے گا کہ وہ چین پر جرمانے اور تاوان عائد کرے یا چین کے ساتھ تجارتي نقصان کی کسی اور طرح سے تلافى کرے۔

تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ تحقیقات امریکہ اور چین کے درمیان کشیدگی اور تناؤ میں اضافہ کر سکتی ہیں اور دنیا کی دو بڑی معیشتوں کے درمیان تجارتي جنگ چھڑ سکتی ہے۔

صدر ٹرمپ اکثر چین کے ساتھ امریکہ کے تجارتي خسارے کی شکایت کرتے رہے ہیں۔ پچھلے سال یہ خسار 347 أرب ڈالر تھا اور اس سال بھی صورت حال کچھ مختلف نہیں ہے۔

امریکہ چین سے عام استعمال کی بہت سی چیزیں درآمد کرتا ہے اور اس کے ساتھ جدید ٹیکنالوجی پر مبنی امریکیوں کی پسندیدہ الیکٹرانک مصنوعات، مثلاً آئی فون وغیرہ بھی چین میں تیار کی جاتی ہیں۔

کچھ امریکہ کمپنیوں نے حالیہ ہفتوں میں چین کے ساتھ تجارت میں بھاری منافعوں کی اطلاع دی ہے ۔ بھاری تعمیراتی مشینری بنانے والی امریکی کمپنی کیٹرپلر نے کہا ہے کہ اس کی مصنوعات کی چین میں بدستور بہت مانگ ہے اور یہ طلب جاری رہنے کا امکان ہے۔

فیس بک فورم

XS
SM
MD
LG