امریکہ: سیاہ فام شخص کی ہلاکت کے خلاف پرتشدد مظاہرے، کئی شہروں میں کرفیو نافذ
امریکہ: سیاہ فام شخص کی ہلاکت کے خلاف پرتشدد مظاہرے، کئی شہروں میں کرفیو نافذ
میناپولس، لاس اینجلس، واشنگٹن سمیت دیگر شہروں میں مظاہرین اور پولیس کے درمیان جھڑپیں ہوئیں۔
ویب ڈیسک —
امریکہ میں پولیس اہلکار کی تحویل میں ایک سیاہ فام شخص کی موت کے بعد مختلف ریاستوں میں پرتشدد احتجاج اور لوٹ مار کا سلسلہ پانچویں روز بھی جاری رہا۔ حکام نے حالات کی سنگینی کے پیشِ نظر دارالحکومت واشنگٹن ڈی سی سمیت کئی اہم شہروں میں کرفیو نافذ کر دیا ہے۔
حکام نے بدامنی کا مرکز بننے والے شہروں واشنگٹن ڈی سی، ہیوسٹن، منیاپولس اور لاس اینجلس میں رات کا کرفیو نافذ کیا ہے۔
شکاگو، ،میامی، ڈیٹرائٹ اور فلاڈیلفیا بھی ان 40 شہروں میں شامل ہیں جن میں رات کے وقت مظاہرے کرنے پر پابندی لگائی گئی ہے۔ امریکہ کی ریاستوں ٹیکساس اور ورجینیا میں ایمرجنسی نافذ کر دی گئی ہے۔
واشنگٹن ڈی سی کے میئر کی جانب سے جاری حکم نامے میں کہا گیا ہے کہ کرفیو کا نفاذ رات 11 بجے سے صبح چھ بجے تک ہو گا۔
اتوار کو ایک مرتبہ پھر منیاپولس، لاس اینجلس اور واشنگٹن ڈی سی سمیت کئی شہروں میں مظاہرین اور پولیس کے درمیان جھڑپیں ہوئیں۔ پرتشدد احتجاج کے دوران دکانوں میں لوٹ مار کے واقعات بھی رپورٹ ہوئے۔
نیو یارک اور میامی میں بھی بڑے پیمانے پر احتجاج ہوئے جب کہ وائٹ ہاؤس سے ملحقہ پارک میں مظاہرین کے احتجاج کے بعد مظاہروں سے نمٹنے والی فورس کے دستے تعینات کر دیے گئے ہیں۔
سیاہ فام شہری کی ہلاکت پر وائٹ ہاؤس کے باہر مظاہرہ
1/12
امریکہ میں پولیس اہلکار کی تحویل میں سیاہ فام شخص کی ہلاکت کے بعد مختلف ریاستوں میں پرتشدد احتجاج اور لوٹ مار کا سلسلہ پانچویں روز بھی جاری رہا۔ حکام نے حالات کی سنگینی کے پیشِ نظر دارالحکومت واشنگٹن ڈی سی سمیت کئی اہم شہروں میں کرفیو نافذ کر دیا ہے۔
مزیدShow less
2/12
حکام نے بدامنی کا مرکز بننے والے شہروں واشنگٹن ڈی سی، ہیوسٹن، منیاپولس اور لاس اینجلس میں رات کا کرفیو نافذ کیا ہے۔
مزیدShow less
3/12
شکاگو، ،میامی، ڈیٹرائٹ اور فلاڈیلفیا بھی ان 40 شہروں میں شامل ہیں جن میں رات کے وقت مظاہرے کرنے پر پابندی لگائی گئی ہے۔ امریکہ کی ریاستوں ٹیکساس اور ورجینیا میں ایمرجنسی نافذ کر دی گئی ہے۔
مزیدShow less
4/12
واشنگٹن ڈی سی کے میئر کی جانب سے جاری حکم نامے میں کہا گیا ہے کہ کرفیو کا نفاذ رات 11 بجے سے صبح چھ بجے تک ہو گا۔
مزیدShow less
5/12
اتوار کو ایک مرتبہ پھر منیاپولس، لاس اینجلس اور واشنگٹن ڈی سی سمیت کئی شہروں میں مظاہرین اور پولیس کے درمیان جھڑپیں ہوئیں۔ پرتشدد احتجاج کے دوران دکانوں میں لوٹ مار کے واقعات بھی رپورٹ ہوئے۔
مزیدShow less
6/12
نیو یارک اور میامی میں بھی بڑے پیمانے پر احتجاج ہوئے جب کہ وائٹ ہاؤس سے ملحقہ پارک میں مظاہرین کے احتجاج کے بعد مظاہروں سے نمٹنے والی فورس کے دستے تعینات کر دیے گئے ہیں۔
مزیدShow less
7/12
مظاہرین کو منتشر کرنے کے لیے پولیس کے ساتھ نیشنل گارڈز کو بھی مختلف مقامات پر تعینات کیا گیا ہے۔
مزیدShow less
8/12
مقامی رہنماؤں نے مظاہرین سے اپیل کی ہے کہ وہ سیاہ فام شخص جارج فلائیڈ کی موت پر تشدد کے بجائے اپنے مطالبات حکام کے سامنے رکھیں۔
مزیدShow less
9/12
واضح رہے کہ گزشتہ پیر کو سوشل میڈیا پر ایک ویڈیو وائرل ہوئی تھی جس میں ایک پولیس اہلکار ایک سیاہ فام شخص کی گردن پر اپنے گھٹنے سے دباؤ ڈال رہا تھا جو بعد میں دم توڑ گیا تھا۔
مزیدShow less
10/12
پولیس کا کہنا ہے کہ فلائیڈ کو ایک ڈپارٹمنٹل اسٹور کے قریب سے جعلی بل منظور کرانے کے الزام میں گرفتار کیا گیا تھا۔ لیکن اس نے گرفتاری کے دوران مزاحمت کی کوشش کی۔
مزیدShow less
11/12
واقعے کے بعد ریاست منی سوٹا کے مختلف شہروں میں احتجاج شروع ہو گیا تھا۔ اس دوران سیکڑوں شہری سڑکوں پر نکلے اور پولیس کے خلاف نعرے بازی کی۔
مزیدShow less
12/12
امریکہ کا فیڈرل بیورو آف انویسٹی گیشن (ایف بی آئی) واقعے کی تحقیقات کر رہا ہے۔ سفید فام پولیس اہلکار کے ہاتھوں سیاہ فام شخص کی ہلاکت کے معاملے پر اقدام قتل کی دفعات کے تحت مقدمہ درج کیا گیا ہے۔
مزیدShow less
Previous slide
Next slide
مظاہرین کو منتشر کرنے کے لیے پولیس کے ساتھ نیشنل گارڈز کو بھی مختلف مقامات پر تعینات کیا گیا ہے۔
مقامی رہنماؤں نے مظاہرین سے اپیل کی ہے کہ وہ سیاہ فام شخص جارج فلائیڈ کی موت پر تشدد کے بجائے اپنے مطالبات حکام کے سامنے رکھیں۔
واضح رہے کہ گزشتہ پیر کو سوشل میڈیا پر ایک ویڈیو وائرل ہوئی تھی جس میں ایک پولیس اہلکار ایک سیاہ فام شخص کی گردن پر اپنے گھٹنے سے دباؤ ڈال رہا تھا جو بعد میں دم توڑ گیا تھا۔
اس شخص کی شناخت 46 سالہ جارج فلائیڈ کے نام سے ہوئی تھی جو ایک مقامی ہوٹل میں سیکیورٹی گارڈ تھا۔
پولیس کا کہنا ہے کہ فلائیڈ کو ایک ڈپارٹمنٹل اسٹور کے قریب سے جعلی بل منظور کرانے کے الزام میں گرفتار کیا گیا تھا۔ لیکن اس نے گرفتاری کے دوران مزاحمت کی کوشش کی۔
واقعے کے بعد ریاست منی سوٹا کے مختلف شہروں میں احتجاج شروع ہو گیا تھا۔ اس دوران سیکڑوں شہری سڑکوں پر نکلے اور پولیس کے خلاف نعرے بازی کی۔
بعد ازاں یہ مظاہرے مختلف ریاستوں اور شہروں میں پھیلتے گئے اور پرتشدد ہنگاموں کی شکل اختیار کر گئے۔ اس دوران لوٹ مار اور جلاؤ گھیراؤ کے واقعات بھی رپورٹ ہوئے۔
امریکہ کا فیڈرل بیورو آف انویسٹی گیشن (ایف بی آئی) واقعے کی تحقیقات کر رہا ہے۔ سفید فام پولیس اہلکار کے ہاتھوں سیاہ فام شخص کی ہلاکت کے معاملے پر اقدام قتل کی دفعات کے تحت مقدمہ درج کیا گیا ہے۔
میناپولس میں جلاؤ گھیراؤ، پولیس اسٹیشن نذر آتش
1/10صورتِ حال پر قابو پانے کے لیے نیشنل گارڈز کو طلب کر لیا گیا ہے جب کہ مظاہرین نے ایک پولیس اسٹیشن کو بھی آگ لگا دی۔ لیکن مظاہروں کے پیشِ نظر تین روز قبل ہی یہ پولیس اسٹیشن خالی کر دیا گیا تھا۔
مزیدShow less
2/10پیر کو سوشل میڈیا پر پولیس حراست میں جارج فلوئیڈ نامی سیاہ فام شخص کی ہلاکت ہوئی تھی جس کے بعد مظاہروں کا سلسلہ شروع ہو گیا تھا۔ پولیس کے مطابق مذکورہ شخص نے مزاحمت کی کوشش کی تھی۔
مزیدShow less
3/10جارج فلوئیڈ کی ہلاکت کے بعد شروع ہونے والے پرتشدد مظاہروں کا سلسلہ منیاپولس سمیت دیگر کئی شہروں تک پھیل گیا ہے۔
مزیدShow less
4/10مظاہرین کا مطالبہ ہے کہ واقعے میں ملوث پولیس اہلکاروں کو قرار واقعی سزا دی جائے اور آئندہ ایسے واقعات کی روک تھام یقینی بنائی جائے۔
مزیدShow less
5/10منیاپولس کے اسٹورز میں لوٹ مار کے بعد کئی ڈیپارٹمنٹل اسٹور بند کردیے گئے جب کہ انتظامیہ نے اتوار تک ریل اور بس سروس بھی جزوی طور پر معطل کر دی ہے۔
مزیدShow less
6/10امریکہ کے تحقیقاتی ادارے فیڈرل بیورو آف انوسٹی گیشن (ایف بی آئی) واقعے کی تحقیقات کررہا ہے جب کہ چار پولیس اہلکاروں کو ملازمت سے برخاست کر دیا گیا ہے۔
مزیدShow less
7/10پولیس اور مظاہرین کے درمیان جھڑپوں کی بھی اطلاعات ہیں۔ پولیس نے مظاہرین کو منتشر کرنے کے لیے آنسو گیس اور ربڑ کی گولیاں بھی استعمال کیں۔
مزیدShow less
8/10مشتعل مظاہرین نے احتجاجی مظاہروں کے دوران کئی گاڑیوں کو نذر آتش جب کہ املاک کو بھی نقصان پہنچایا ہے۔
مزیدShow less
9/10مظاہرے کے دوران مشتعل افراد نے مختلف ڈپارٹمنٹل اسٹورز کی پارکنگ پر قبضہ کرلیا جب کہ کئی اسٹورز کو بھی لوٹ لیا گیا۔
مزیدShow less
10/10جلاؤ گھیراؤ کے بڑھتے ہوئے واقعات پر امریکہ کے صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے بھی تشویش کا اظہار کیا ہے۔ اُن کا کہنا ہے کہ منیاپولس میں قیادت کا فقدان ہے۔
مزیدShow less
Previous slide
Next slide
مقدمہ درج ہونے کے باوجود پُر تشدد احتجاج کا سلسلہ بدستور جاری ہے جس میں سرکاری املاک اور گاڑیوں کو نشانہ بنایا جا رہا ہے جب کہ مظاہرین کتبے اٹھائے سڑکوں پر مارچ کر رہے ہیں جن میں سے کئی بینرز پر 'میں سانس نہیں لے سکتا' کی عبارت درج ہے۔
یاد رہے کہ امریکہ میں اس سے قبل بھی ایسے واقعات پیش آ چکے ہیں جن میں پولیس کی حراست میں کسی سیاہ فام شہری کی ہلاکت ہوئی ہو۔ سن 2014 میں نیو یارک میں ایک سیاہ فام شخص پولیس کی زیرِ حراست ہلاک ہو گیا تھا۔ ایرک گارنر نامی سیاہ فام شخص کو کھلے سگریٹس کی غیر قانونی فروخت کے الزام میں گرفتار کیا گیا تھا۔
پولیس اہلکار نے ایرک گارنر کی گردن پر گھٹنا رکھا تھا جس پر اُس نے 11 دفعہ کہا تھا کہ 'میں سانس نہیں لے سکتا' جس کے بعد یہ جملہ پولیس تشدد کے خلاف نعرے کے طور پر سامنے آیا تھا۔ اس واقعے کے پانچ سال بعد گزشتہ سال نیو یارک پولیس کے ایک اہلکار کو ملازمت سے نکال دیا گیا تھا۔
دوسری جانب امریکی اخبار 'نیویارک ٹائمز' نے رپورٹ کیا ہے کہ سیاہ فام شہری کی ہلاکت کے معاملے پر شدید احتجاج کے بعد سیکرٹ سروس کے اہلکاروں نے جمعے کو صدر ڈونلڈ ٹرمپ کو وائٹ ہاؤس میں زیرِ زمین بنکر میں منتقل کر دیا تھا۔
احتجاج کے دوران مظاہرین نے پولیس کے بیریئرز پر پتھراؤ کیا تھا جس کے بعد سیکرٹ سروس نے فوری طور پر صدر ٹرمپ کو بنکر میں منتقل کرنے کا فیصلہ کیا۔
یہ زیرِ زمین بنکر ہنگامی حالت میں استعمال کیا جاتا ہے جب امریکی صدر کو کوئی خطرہ محسوس ہو۔ جمعے کو صدر ٹرمپ نے اس بنکر میں ایک گھنٹے سے زائد وقت گزارا تھا۔