رسائی کے لنکس

logo-print

امریکہ میں جاری مظاہروں کے باعث کرونا وائرس کی نئی لہر کا خطرہ


مناپولیس میں ایک سیاہ فام کی ہلاکت کے خلاف مظاہرہ کرنے والوں کو منتشر کرنے کے لیے واشنگٹن میں پولیس آنسو گیس استعمال کر رہی ہے۔ 31 مئی 2020

امریکہ میں صحت کے حکام نے انتباہ کیا ہے کہ ملک میں جاری مظاہروں کی وجہ سے کرونا وائرس کا حملہ ایک بار پھر زور پکڑ سکتا ہے۔ یہ مظاہرے ایک افریقی امریکی جارج فلائیڈ کی پولس افسر کے ہاتھوں ہلاکت کے خلاف ملک گیر سطح پر ہو رہے ہیں۔

حالیہ چند دنوں سے امریکہ کے کئی شہروں میں افریقی امریکی شہری جارج فلائیڈ کی ہلاکت کے خلاف مظاہرے جاری ہیں۔ ان میں شامل افراد کرونا وائرس کے خلاف احتیاطی تدابیر پر عمل نہیں کر رہے ہیں۔ بہت کم مظاہرین ماسک پہنتے ہیں اور ایک دوسرے سے دوری کا بالکل خیال نہیں رکھا جا رہا ہے۔

چند لیڈر مظاہرین سے پر امن رہنے کی تلقین کر رہے ہیں اور انہیں بتا رہے ہیں کہ اس طرح وہ اپنی زندگیوں کے لیے خود خطرہ پیدا کر رہے ہیں۔

ریاست منی سوٹا کے گورنر ٹم والز نے خبر رساں ایجنسی اے پی سے بات کرتے ہوئے کہا کہ میں اس بات پر زور دیتا ہوں کہ ہم اس وقت وبائی مرض کی لپیٹ میں ہیں اور ہمارے اسپتال کرونا وائرس کے مریضوں سے بھرے ہوئے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ بہت سے مظاہرین نہ ماسک پہنتے ہیں اور نہ ہی سماجی دوری کا خیال رکھتے ہیں۔

اٹلانٹا کے میئر کائیشا لانس بوٹم نے گورنر سے اتفاق کرتے ہوئے کہا کہ اس وبا سے زیادہ تر سیاہ فام اور غیر سفید فام افراد ہلاک ہوئے ہیں۔ اگر آپ کل رات احتجاج کر رہے تھے تو پھر اس ہفتے آپ کو کرونا کا ٹسٹ کروانا چاہیے۔

مناپولیس کے میئر جیکب فرے نے کہا ہم اس وقت دوہرے بحران سے گذر رہے ہیں۔ اور ہم ان دونوں کے بیچ میں پھنس کر رہ گئے ہیں۔

دوسری طرف مظاہرین اس کی پرواہ نہیں کر رہے ہیں۔ احتجاج کرنے والے ایک شخص کا کہنا ہے کہ اس وبا کے دوران اگر احتجاج کرتے ہوئے ہماری جان خطرے میں پڑتی ہے تو کوئی حرج نہیں۔ کیوں کہ ہم اپنی بقا کی جنگ لڑ رہے ہیں۔

ایک اور سیاہ فام خاتون انگرام ماسک پہن کر احتجاج میں شریک تھیں، انہیں دمہ کا عارضہ ہے۔ وہ کہتی ہیں کہ ہماری زندگیوں کو پولیس سے خطرہ ہے اور ہمیں بھرپور طور سے احتجاج کر چاہیے۔

صحت کے ماہرین کو خاص طور پر اس لیے بھی تشویش ہے کہ بہت سے مظاہرین کو 'خاموش کرونا وائرس' کا مرض لاحق ہے اور انہیں پتہ ہی نہیں کہ وہ کتنے لوگوں کو متاثر کر رہے ہیں۔ وہ ایک دوسرے سے کندھا ملا کر جلوس نکال رہے ہیں۔

یونیورسٹی آف کیلی فورنیا کے پبلک ہیلتھ سائنس شعبے سربراہ بریڈلے پولاک کہتے ہیں کہ مظاہرین چاہے جو کچھ بھی کریں، وائرس سے متاثر ہونے کے ان کے امکان بہت زیادہ ہیں۔

لاس اینجلس کاؤنٹی کے پبلک ہیلتھ شعبے کی ڈائریکٹر باربرا فیرر نے تشویش ظاہر کرتے ہوئے کہا کہ ایک دوسرے کا احترام کرتے ہوئے ماسک پہنیں اور سماجی دوری کو برقرار رکھیں۔ اگر ایسا نہ کیا گیا تو ممکن ہے کہ غیر ارادی طور پر آپ کی سانس کے بخارات دوسروں کے لیے مہلک ثابت ہوں۔

اسی طرح کی تشویش کا اظہار کل ہفتے کے روز پیرس میں بھی کیا گیا، جب کارکنوں کے حق میں نکلالے گئے ایک جلوس کو پولیس نے آنسو گیس استعمال کرتے ہوئے منتشر کیا۔ پولیس نے یہ کارروائی صحت کے لیے پیدا ہونے والے خطرات کے پیش نظر کی۔

فیس بک فورم

XS
SM
MD
LG