رسائی کے لنکس

logo-print

لاپتا ملائیشین طیارے کی تلاش دوبارہ شروع ہونے کا امکان


امریکی کمپنی کے جہاز پر کئی چھوٹی لیکن جدید آب دوزیں موجود ہیں جن سے سمندر کی تہہ میں طیارے کا ملبہ تلاش کیا جائے گا۔ (فائل فوٹو)

ٹھیکے کی شرائط کے مطابق امریکی کمپنی کو معاوضہ صرف اسی صورت میں ملے گا جب وہ طیارےکا ملبہ تلاش کرلے گی۔

سمندر کی تہہ کی کھوج لگانے والی ایک امریکی کمپنی نے چار سال قبل پراسرار طور پر لاپتا ہونے والے ملائیشین ایئر لائن کے طیارے کی تلاش دوبارہ شروع کرنے کا عندیہ دیا ہے۔

'اوشین اِنفنٹی' نامی کمپنی نے بدھ کو اپنے ایک بیان میں کہا ہے کہ لاپتا طیارے کی تلاش کے لیے اس نے اپنا ایک بحری جہاز اس مقام کی طرف روانہ کردیا گیا ہے جہاں امکان ہے کہ طیارے کاملبہ موجود ہوسکتا ہے۔

کمپنی کے بیان میں کہا گیا ہے کہ اسے امید ہے کہ ملائیشیا کی حکومت لاپتا طیارے کی تلاش دوبارہ شروع کرنے کا ٹھیکہ کمپنی کا دینے کا فیصلہ آئندہ چند روز میں کرلے گی۔

ملائیشیا کے حکام کا کہنا ہے کہ وہ گزشتہ سال اکتوبر سے 'اوشین انفنٹی' کے ساتھ لاپتا طیارے کی تلاش دوبارہ شروع کرنے کے معاملے پر بات چیت میں مصروف ہیں۔

ملائیشیا کے نائب وزیرِ ٹرانسپورٹ عزیز کپراوی نے کہا ہے کہ انہیں امید ہے کہ کمپنی کو ٹھیکہ دینے کا فیصلہ آئندہ چند روز میں کرلیا جائے گا۔ تاہم ان کے بقول انہیں امریکی کمپنی کی جانب سے ٹھیکہ ملنے سے قبل ہی اپنا جہاز علاقے کی جانب روانہ کرنے کے متعلق معلومات نہیں۔

ٹھیکے کی شرائط کے مطابق امریکی کمپنی کو معاوضہ صرف اسی صورت میں ملے گا جب وہ طیارےکا ملبہ تلاش کرلے گی۔

ملائیشین ایئرلائن کی پرواز 'ایم ایچ 370' مارچ 2014ء میں کوالالمپور سے بیجنگ جاتے ہوئے پراسرار طور پر لاپتا ہوگئی تھی جس کے بعد اس پر سوار 239 افراد کا اب تک کچھ پتا نہیں چل سکا ہے۔

طیارے نے جنوبی بحیرۂ چین کے اوپر پرواز کے دوران اچانک اپنا رخ تبدیل کرلیا تھا جس کے بعد اس سے ریڈیو رابطہ منقطع ہوگیا تھا۔

سیٹلائٹ ڈیٹا کے مطابق طیارے کو آخری بار انڈونیشیا کے جزیرے سماٹرا کے شمالی کنارے کے قریب دیکھا گیا تھا اور خدشہ ہے کہ وہ آسٹریلیا کے مغربی ساحل سے لگ بھگ 1500 کلومیٹر دور بحرِ ہند میں کسی مقام پر گر کر تباہ ہوگیا تھا۔

'ایم ایچ 370' کی گمشدگی کو جدید ایوی ایشن کی تاریخ کا پراسرار ترین واقعہ سمجھا جاتا ہے ۔ واقعے کے بعد گزشتہ سال تک کئی ممالک کی ٹیمیں جدید آلات کی مدد سے طیارے کا ملبہ تلاش کرتی رہی تھیں لیکن انہیں کامیابی نہیں ملی۔

'اوشین انفنٹی' کے مطابق اس کا جہاز جنوبی افریقہ سے روانہ ہوا ہے اور وہ جنوری کے وسط تک اس علاقے میں پہنچے گا جہاں طیارے کا ملبہ تلاش کیا جانا ہے۔

کمپنی کے جہاز پر کئی چھوٹی لیکن جدید آب دوزیں موجود ہیں جن سے سمندر کی تہہ میں طیارے کا ملبہ تلاش کیا جائے گا۔

'ایم ایچ 370' کے ملبے کے اب تک صرف تین ٹکڑے بحرِ ہند کے مختلف ساحلوں سے ملے ہیں جو لہروں کے ساتھ بہتے ہوئے وہاں تک پہنچے تھے۔

لیکن ان ٹکڑوں کے فارنسک معائنے سے بھی یہ پتا نہیں چل سکا ہے کہ طیارے کو کیسے اور کیا حادثہ پیش آیا تھا۔

فیس بک فورم

XS
SM
MD
LG