رسائی کے لنکس

logo-print

ہانگ کانگ سے ملحقہ سرحد پر چینی فوج کی تعیناتی پر امریکہ کا اظہار تشویش


امریکہ نے کہا ہے کہ اسے ہانگ کانگ سے ملحقہ سرحد پر چینی نیم فوجی نقل و حرکت کی اطلاعات پر ’’شدید تشویش‘‘ لاحق ہے، جس چینی علاقے میں گذشتہ 10 روز سے جمہوریت کے حامی مظاہرین نے مسلسل احتجاج کا سلسلہ جاری رکھا ہوا ہے۔

امریکی محکمہ خارجہ کی ترجمان نے کہا ہے کہ ’’ہم چین اور ہانگ کے تمام فریق کو اس بات کی ترغیب دیتے ہیں کہ وہ حل تلاش کرنے کی کوشش کریں، جس کی مدد سے ہانگ کانگ کے باسیوں کی آزادی اور ہانگ کانگ کی اعلیٰ سطحی خود مختاری کا خیال رکھا جائے، جیسا کہ چین برطانیہ مشترکہ اعلان میں درج ہے‘‘۔

انھوں نے کہا کہ ’’ہانگ کانگ حکومت کے لیے یہ بات اہم ہے کہ وہ اظہار رائے اور پرامن اجتماع کی آزادیوں کی حرمت کا خیال رکھے، جیسا کہ چین برطانیہ مشترکہ اعلان میں درج ہے، اور چین اعلیٰ سطح کی خودمختاری کی حرمت کا خیال رکھے‘‘۔

ایسے میں جب حالیہ دنوں کے دوران احتجاجی مظاہروں نے شدت اختیار کی ہے، چین کے سرکاری تحویل میں کام کرنے والے ذرائع ابلاغ نے سرحد کے ساتھ چین میں سیکورٹی افواج کی تعیناتی کے بارے میں وڈیوز دکھائی ہیں۔

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے منگل کے روز ٹوئٹر پر کہا ہے کہ’’ہماری انٹیلی جنس نے ہمیں مطلع کیا ہے کہ حکومت چین ہانگ کانگ کی سرحد کے ساتھ اپنی فوج تعینات کر رہا ہے۔ سب کو پرسکون اور محفوظ رہنا چاہیے‘‘۔

منگل کے روز اخباری نمائندوں کو دیے گئے بیان میں، ٹرمپ نے کہا کہ ہانگ کانگ کی صورت حال ’’انتہائی مشکل صورت حال، بہت ہی پیچیدہ ہے‘‘۔ وہ اب تک احتجاج کے بارے میں بیان بازی سے دور رہے ہیں۔

انھوں نے کہا کہ ’’ہمیں دیکھنا ہوگا کہ کیا ہوتا ہے۔ لیکن، مجھے یقین ہے کہ یہ کارگر ثابت ہوگا‘‘۔ صدر نے اس توقع کا اظہار کیا کہ کسی کو بھی نقصان نہیں ہوگا، چونکہ معاملہ ’’آزادی کا ہے‘‘۔

ہانگ کانگ کی سڑکوں پر مظاہرین اور پولیس کے درمیان شدید جھڑپیں ہوئی ہیں۔ منگل کی رات گئے بین الاقوامی ہوائی اڈے پر تشدد کی کارروائیاں بھڑک اٹھیں، ایسے میں جب پولیس نے جمہوریت کے حامی مظاہرین کے خلاف طاقت استعمال کی، جنھوں نے گذشتہ دو دنوں سے ایئرپورٹ پر قبضہ جما رکھا تھا۔

امریکی محکمہ خارجہ کی ترجمان نے کہا کہ ’’ہم تشدد کی مذمت کرتے ہیں اور تمام فریقین پر زور دیتے ہیں کہ وہ تحمل سے کام لیں؛ لیکن، ہم ہانگ کانگ میں اظہار رائے کی آزادی اور پر امن اجتماع کی آزادی کی حمایت کے معاملے پر پختہ رہیں گے‘‘۔

فیس بک فورم

XS
SM
MD
LG