رسائی کے لنکس

logo-print

امریکہ کی طیب ایردوان کے ''یہود مخالف'' بیان کی مذمت


رجب طیب ایردوان (فائل فوٹو)

امریکہ نے ترکی کے صدر رجب طیب ایردوان کے غزہ میں اسرائیلی حملے کے تناظر میں دیے گئے اس بیان پر سخت تنقید کی ہے جو امریکہ کے بقول ''یہودیوں کے خلاف'' ہے۔

امریکی محکمۂ خارجہ کے ترجمان نیڈ پرائس نے ایک بیان میں کہا ہے کہ امریکہ ترک صدر کی جانب سے حال ہی میں دیے گئے یہود مخالف بیان کی مذمت کرتا ہے۔

انہوں نے کہا کہ ''ہم ترک صدر اور دیگر ترک رہنماؤں پر زور دیتے ہیں کہ وہ اشتعال انگیز بیانات سے گریز کریں جو تشدد کو مزید بڑھانے کا سبب بن سکتے ہیں۔''

خیال رہے کہ ترک صدر نے حال ہی میں اپنے ایک بیان میں اسرائیل پر فلسطینیوں کے خلاف ''دہشت گردی'' کرنے کا الزام لگایا تھا اور کہا تھا کہ یہ اس کی فطرت میں شامل ہے۔

اُن کا یہ بیان اسرائیل اور حماس کے درمیان جاری لڑائی کے تناظر میں سامنے آیا تھا۔

صدر ایردوان نے اپنے بیان میں اسرائیل کو مخاطب کرتے ہوئے کہا تھا کہ ''یہ لوگ قاتل ہیں اور پانچ یا چھ سال کے بچوں کو قتل کر رہے ہیں۔ یہ صرف ان کا خون چوسنے سے ہی مطمئن ہوتے ہیں۔''

ترک صدر نے امریکہ کے صدر جوبائیڈن پر بھی اسرائیل کی سفارتی مدد کرنے پر تنقید کی تھی۔

ترک صدر کے حالیہ بیان کے بعد انقرہ اور واشنگٹن ڈی سی کے درمیان تعلقات میں تناؤ کے خدشات کا اظہار کیا جا رہا ہے۔

اگرچہ ترکی ان چند مسلم اکثریتی ملکوں میں شامل ہے جن کے اسرائیل کے ساتھ سفارتی تعلقات ہیں۔ لیکن ترک صدر نے اسرائیل فسلطین تنازع پر ہمیشہ فلسطین کی حمایت کی ہے۔

حالیہ اسرائیل فلسطینی کشیدگی میں بھی طیب ایردوان نے تیز تر سفارتی کوششیں کی ہیں۔

ترک خبر رساں اداروں کے مطابق ترک صدر نے تمام متعلقہ اداروں اقوامِ متحدہ اور اسلامی تعاون تنظیم کی جانب سے فلسطین کی حمایت کے لیے لگ بھگ 20 ممالک کے رہنماؤں سے ٹیلی فونک رابطہ کیا ہے۔

رجب طیب ایردوان نے فلسطینی اتھارٹی کے صدر محمود عباس، روس، پاکستان، کویت، الجیریا اور دیگر ممالک کے رہنماؤں سے بات کی اور ان پر زور دیا کہ وہ غزہ، مسجدِ اقصیٰ اور یروشلم میں فلسطینیوں پر اسرائیلی حملوں کے خلاف متحد مؤقف اختیار کریں۔

اس کے علاوہ ترک صدر نے اپنی جماعت جسٹس اینڈ ڈویلپمنٹ (اے کے) پارٹی کے حالیہ اجلاس سے خطاب میں بھی دنیا سے یہ مطالبہ کیا تھا کہ وہ فلسطین پر اسرائیلی حملوں کے خلاف کھڑے ہوں۔

رجب طیب ایردوان نے کہا تھا کہ چاہے پوری دنیا مخالفت کرے لیکن ترکی اسرائیلی مظالم کو قبول نہیں کرے گا۔

ترک صدر نے اقوامِ متحدہ کی سیکیورٹی کونسل سے بھی کہا تھا کہ وہ یروشلم میں امن کے لیے اقدامات اٹھائے اور ترکی ان اقدامات کی واضح حمایت کرے گا۔

یاد رہے کہ ترکی نے 1949 میں باضابطہ طور پر اسرائیل کو تسلیم کرتے ہوئے تعلقات قائم کیے تھے۔ تاہم ان دونوں ممالک کے درمیان تعلقات میں اتار چڑھاؤ رہا ہے۔

ترک وزارتِ خارجہ کی ویب سائٹ کے مطابق ترکی نے فلسطین لبریشن آرگنائزیشن (پی ایل او) کے ساتھ باضابطہ طور پر تعلقات 1975 میں قائم کیے تھے اور وہ ان پہلے ممالک میں سے ایک تھا جس نے فلسطین کو تسلیم کیا تھا۔

اسرائیل اور فلسطینیوں کی لڑائی

اسرائیل اور فلسطینیوں کے درمیان دس مئی سے جاری کشیدگی میں اب تک 200 سے زائد فلسطینی ہلاک ہوئے ہیں جن میں 59 بچے بھی شامل ہیں۔

اس کے علاوہ حماس کے راکٹ حملوں میں اب تک 12 اسرائیلی ہلاک ہو چکے ہیں جس میں ایک چھ سالہ بچہ بھی شامل ہے۔

اس لڑائی میں اسرائیل کی جانب سے غزہ کی پٹی پر فضائی کارروائی کی گئی ہے جس میں حماس کے ٹھکانوں کو نشانہ بنانے کا دعویٰ کیا گیا ہے جب کہ حماس نے اسرائیلی شہروں کی طرف راکٹ فائر کیے ہیں۔

اسرائیل اور حماس کی اس لڑائی کو 2014 کی جنگ کے بعد بدترین لڑائی قرار دیا جا رہا ہے۔

کئی روز سے جاری اس لڑائی کے خاتمے کے لیے عالمی سطح پر کوششیں بھی جاری ہیں اور اس بات پر زور دیا جا رہا ہے کہ فریقین جنگ بندی پر راضی ہوں۔

یاد رہے کہ حالیہ لڑائی کا آغاز یروشلم کے مضافاتی علاقے 'شیخ جراح' میں یہودی آباد کاروں کی جانب سے فلسطینی عرب رہائشیوں کی بے دخلی کی کوششوں اور مسجد اقصیٰ کے احاطے میں ہونے والی جھڑپوں کے بعد ہوا تھا۔

فیس بک فورم

XS
SM
MD
LG