رسائی کے لنکس

logo-print

داعش کی دہشت گردی کا بے گناہ نشانہ بن رہے ہیں: امریکہ


محکمہٴ خارجہ کے ترجمان نے کہا ہے کہ ’’دمشق، بغداد، پیرس، برسلز اور انقرہ میں ہونے والی داعش کی دہشت گردی میں دنیا بھر کے بے گناہ افراد نشانہ بنے‘‘، اور یہ کہ ’’اِس دہشت گرد تنظیم کو تباہ کرنے کے لیے متحد اور عالمی کوششیں درکار ہیں‘‘

امریکہ نے شام کے دارالحکومت دمشق اور مغربی شہر حمص میں اتوار کو ہونے والے ’’وحشیانہ دہشت گرد حملوں کی شدید مذمت کی ہے‘‘، جن کی ذمہ داری اب داعش نے قبول کرلی ہے۔ دھماکوں میں 140 سے زائد افراد ہلاک ہوئے۔

محکمہٴ خارجہ کے ترجمان مارک ٹونر نے پیر کے روز ایک بیان میں کہا ہے کہ ’’ہم ہلاک شدگان سے تعزیت کرتے ہیں اور زخمیوں کی جلد صحتیابی کے لیے دعاگو ہیں‘‘۔

بیان میں کہا گیا ہے کہ ’’دمشق سے بغداد، پیرس، برسلز اور انقرہ میں ہونے والی داعش کی دہشت گردی میں دنیا بھر کے بے گناہ افراد نشانہ بنے‘‘۔

ترجمان نے کہا ہے کہ ’’اِس دہشت گرد تنظیم کو تباہ کرنے کے لیے متحد اور عالمی کوششیں درکار ہیں‘‘۔

بقول ترجمان، ’’بین الاقوامی اتحاد کے ذریعے ہم عراقیوں اور متعدل شامی حزب مخالف کو مدد فراہم کرنے کے عزم پر قائم ہیں، تاکہ اس خطے کا کنٹرول واگزار کرایا جا سکے، جہاں دولت اسلامیہ کا تسلط ہے، جب کہ اِس دہشت گرد تنظیم کو مالی طور پر اور اُس کے غیر ملکی لڑاکوں اور پروپیگنڈہ نیٹ ورکس کا منظم طور پر خاتمہ کیا جاسکے‘‘۔

ترجمان نے کہا کہ شام میں ’’عبوری سیاسی دور کے لیے جستجو کی جا رہی ہے‘‘، جیسا کہ اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کی قرارداد 2254 کی اساس ہے۔ ’’ساتھ ہی، ہم تنازع سے وابستہ تمام فریق سے مطالبہ کرتے ہیں، خاص طور پر حکومتِ شام اور اُن طاقتوں سے جو اُس کی حمایت کرتے ہیں، تاکہ مخاصمانہ کارروائی بند ہونے میں مدد مل سکے، جس سے خانہ جنگی اور کشیدگی میں کمی لائی جاسکے، جس کی وجہ سے، داعش اور دیگر دہشت گرد گروپوں کے زور پکڑنے میں مدد مل رہی ہے‘‘۔

XS
SM
MD
LG