رسائی کے لنکس

logo-print

پُرتشدد کارروائی، عراقی اہداف سے دھیان نہیں ہٹا سکتی: امریکہ


’دہشت گردی کے عفریت کے خاتمے کے لیے، امریکہ حکومتِ عراق اور اتحادی ساجھے داروں کے ساتھ مل کر کام کرنے کے عزم پر قائم ہے، ایسے میں جب وہ پُرتشدد انتہا پسندوں سے اپنا ملک واگزار کرانے کی سعی پر گامزن ہے۔۔۔۔۔‘ ترجمان محکمہ خارجہ

امریکی محکمہٴخارجہ نے عراق میں ہونے والے دو دہشت گرد حملوں کی سخت الفاظ میں مذمت کی ہے، جن میں سے ایک خودکش کار بم حملہ بدھ کو بصرہ میں واقع ہوا، جب کہ دوسرا عراقی کردستان علاقے میں اربیل کی صوبائی کونسل کی عمارت کے سامنے ہوا، جن کے نتیجے میں ’کئی بے گناہ افراد ہلاک ہوئے‘۔

بدھ کو جاری ہونے والے ایک اخبار ی بیان میں، محکمے کے عوامی رابطے کے سربراہ، جیف رتھکے نے ہلاک ہونے والوں کے اہل خانہ سے تعزیت کرتے ہوئے، اِن واقعات میں زخمی ہونے والوں کی جلد صحتیابی کی امید کا اظہار کیا۔

جیف رتھکے کے بقول، ’عراقی عوام داعش کی تشدد اور انسانیت سوز نظریات کے خلاف اٹھ کھڑے ہونے کا عزم رکھتے ہیں اور اُنھوں نے دولت اسلامیہ کے شدت پسندوں سے موصل ڈیم، ربیعہ، زمر اور دیگر علاقے، جن میں بیجی بھی شامل ہے، بازیاب کرا لیے ہیں‘۔

اُنھوں نے کہا کہ، ’ایسے میں جب عراقی سکیورٹی فورسز تقویت حاصل کر رہی ہیں اور داعش مزید علاقوں پر اپنا قبضہ خالی کرنے پر مجبور ہے، خوف کی بنیاد پر اور اپنے زیر تسلط خطوں پر براجمان رہنے کی کوششیں کرتے ہوئے، دولت اسلامیہ شہریوں کو ہلاک کرنے، اور مایوسی میں، دیگر بزدلانہ اقدامات کے ہتھکنڈے جاری رکھ سکتا ہے‘۔

ترجمان نے کہا کہ دہشت گردی کے عفریت کے خاتمے کے لیے، امریکہ حکومتِ عراق اور اتحادی ساجھے داروں کے ساتھ مل کر کام کرنے کے عزم پر قائم ہے، ایسے میں جب وہ پُرتشدد انتہا پسندوں سے اپنا ملک واگزار کرانے کی سعی پر گامزن ہے، اور عراقی آئین کے عین مطابق، ایک متحد، وفاقی اور سب کی شراکت داری پر مشتمل ملک کو فروغ دینے کی کوشش کر رہے ہیں۔

XS
SM
MD
LG