رسائی کے لنکس

logo-print

امریکہ: کانگریس میں 585 ارب ڈالر کا دفاعی بجٹ منظور


بِل میں یکم اکتوبر سے شروع ہونے والے مالی سال 2015ء کے دوران امریکہ کے فوجی اور دفاعی اخراجات کے لیے مختلف مدات میں رقم مختص کی گئی ہے۔

امریکی کانگریس نے رواں مالی سال کے لیے585 ارب ڈالر کے دفاعی بجٹ کی منظوری دے دی ہے۔

امریکی ایوانِ نمائندگان نے 'نیشنل ڈیفنس آتھورائزیشن' نامی اس مسودہ قانون کی گزشتہ ہفتے منظوری دی تھی جس کے بعد جمعے کی شب سینیٹ نے بھی 11 کے مقابلے میں 89 ووٹوں کی بھاری اکثریت سے یہ بلِ منظور کرلیا۔

اب بِل کے مسودے کو صدر براک اوباما کو بھیجوایا جائے گا جن کے دستخط کے بعد یہ قانون بن جائے گا۔

بِل میں یکم اکتوبر سے شروع ہونے والے مالی سال 2015ء کے دوران امریکہ کے فوجی اور دفاعی اخراجات کے لیے مختلف مدات میں رقم مختص کی گئی ہے۔

بجٹ میں دنیا کےدیگر خطوں میں جاری جنگوں اور فوجی کارروائیوں کے لیے 64 ارب ڈالرز مختص کیے گئے ہیں جب کہ محکمۂ دفاع 'پینٹاگون' کے اخراجات کے لیے 496 ارب ڈالرز رکھے گئے ہیں۔

بِل میں امریکی فوجیوں کی تنخواہوں میں ایک فی صد اضافے کی تجویز منظور کرلی گئی ہے جب کہ بحری جہازوں، جنگی طیاروں اور دیگر اسلحے کی خریداری کے لیے بھی رقوم مختص کی گئی ہیں۔

مسودے میں صدر اوباما کی درخواست پر عراق اور شام میں دولتِ اسلامیہ کے خلاف فوجی کارروائیوں اور شامی باغیوں اور عراق کی کرد افواج کی تربیت کے لیے بھی رقم مختص کی گئی ہے۔

امریکی قانون سازوں نے بِل کے ذریعے کیوبا کی خلیجِ گوانتانامو میں قائم امریکی فوج کے حراستی مرکز میں موجود قیدیوں کی امریکی جیلوں میں منتقلی پر پہلے سے عائد پابندی میں بھی صدر اوباما کی مخالفت کے باوجود ایک بار پھر توسیع کردی ہے۔

اس پابندی کے باعث یہ حراستی مرکز اب 2015ء میں بھی بند نہیں کیا جاسکے گا۔ یاد رہے کہ صدر اوباما نے اپنی انتخابی مہم میں اس حراستی مرکز کی بندش کا وعدہ کیا تھا لیکن اقتدار سنبھالنے کے پہلے ہی سال سے اس معاملے پر انہیں کانگریس، خصوصاً ری پبلکن ارکان کی شدید مخالفت کا سامنا ہے۔

XS
SM
MD
LG