رسائی کے لنکس

logo-print

جاسوسی کے تنازع پر دیگر حکومتوں سے رابطے میں ہیں، اوباما


امریکی صدر نے اعتراف کیا کہ جدید ٹیکنالوجی کے استعمال کے سبب نگرانی کے منصوبوں کے غلط استعمال کا امکان بڑھ گیا ہے۔

امریکہ کے صدر براک اوباما نے کہا ہے کہ ان کی انتظامیہ جاسوسی کے امریکی منصوبوں کے تنازع پر یورپی یونین کے ارکان سمیت کئی ملکوں کے ساتھ رابطے میں ہے تاکہ ان کے تحفظات دور کیے جاسکیں۔

سوئیڈن کے دارالحکومت اسٹاک ہوم میں وزیرِاعظم فریڈرک رینفیلٹ کے ساتھ ملاقات کےبعد ایک مشترکہ پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے امریکی صدر نے اعتراف کیا کہ جدید ٹیکنالوجی کے استعمال کے سبب نگرانی کے منصوبوں کے غلط استعمال کا امکان بڑھ گیا ہے۔

امریکی صدر کا کہنا تھا کہ وہ برملا یہ اعتراف کرتے ہیں ٹیکنالوجی کے میدان میں ہونے والے پیش رفت اور بیشتر معلومات کی انٹرنیٹ اور وائر لیس نظاموں کے ذریعے ترسیل کے نتیجے میں ان معلومات کے غلط ہاتھوں میں جانے یا غلط استعمال کا خطرہ پہلے سے کہیں زیادہ بڑھ گیا ہے۔

صدر اوباما نے کہا کہ امریکہ کی جانب سے بیرونِ ملک کی جانے والی جاسوسی کی سرگرمیوں کا مقصد امریکہ کی قومی سلامتی کے بنیادی مفادات کا تحفظ ہے۔

انہوں نے واضح کیا کہ ان مفادات میں انسدادِ دہشت گردی، بڑے پیمانے پر تباہی پھیلانے والے ہتھیاروں کا کنٹرول اور سائبر سکیورٹی کے معاملات سرِ فہرست ہیں۔

امریکی صدر نے کہا کہ وہ یورپی عوام اور دنیا بھر کے لوگوں کو یہ یقین دلاتے ہیں کہ ان کا ملک ایسے افراد کی ای میل اور فون کالوں کی نگرانی نہیں کرتا جن کا مذکورہ معاملات سے کوئی تعلق نہ ہو۔

خیال رہے کہ امریکہ کے سابق انٹیلی جنس اہلکار ایڈورڈ سنوڈن کی جانب سے امریکہ خفیہ ادارے 'نیشنل سکیورٹی ایجنسی' کی بیرونِ ملک جاسوسی کی سرگرمیوں سے متعلق انکشافات کے نتیجے میں اوباما انتظامیہ اپنے یورپی اتحادی ممالک کے دباؤ میں ہے جو امریکہ سے ان سرگرمیوں کی وضاحت طلب کر رہے ہیں۔

صدر اوباما دنیا کے 20 بڑی معاشی طاقتوں کی تنظیم 'جی-20' کے روس میں ہونے والے سربراہی اجلاس کے لیے جاتے ہوئے دو روزہ دورے پر سوئیڈن رکے ہیں جو کسی بھی امریکی صدر کا اس یورپی ملک کا پہلا دورہ ہے۔
XS
SM
MD
LG