رسائی کے لنکس

logo-print

چین: کئی امریکی سفارت کار 'پراسرار بیماری' میں مبتلا


فائل فوٹو

بیان کے مطابق یہ علامات بالکل ویسی ہی ہیں جیسی اس سے قبل کیوبا میں تعینات امریکی سفارت کاروں میں ظاہر ہوئی تھیں۔

امریکہ کے محکمۂ خارجہ نے کہا ہے کہ چین میں تعینات سفارتی عملے کے کئی اہلکاروں کو ایک پراسرار بیماری میں مبتلا ہونے کے باعث وطن واپس بلالیا گیا ہے۔

محکمۂ خارجہ کی ترجمان ہیتھر ناورٹ نے بدھ کو ایک بیان میں کہا ہے کہ بیماری کی علامات دماغی چوٹ کے باعث انسانی جسم اور رویوں میں آنے والی تبدیلی سے ملتی جلتی ہیں جس سے متاثر ہونے والے تمام سفارت کار چین کے جنوبی شہر گوانگ ژو میں تعینات تھے۔

بیان کے مطابق یہ علامات بالکل ویسی ہی ہیں جیسی اس سے قبل کیوبا میں تعینات امریکی سفارت کاروں میں ظاہر ہوئی تھیں۔

ترجمان نے اپنے بیان میں کہا ہے کہ گوانگ زو کے امریکی قونصل خانے کے ایک اہلکار کے اس بیماری کا شکار ہونے کی تصدیق کے بعد محکمۂ خارجہ نے وہاں تعینات دیگر ملازمین اور ان کے اہلِ خانہ کے طبی معائنے کے لیے میڈیکل ٹیم وہاں بھیجی تھی۔

میڈیکل ٹیم کی تشخیص کے بعد اب تک گوانگ ژو کے قونصل خانے میں تعینات کئی افراد کو مزید طبی معائنے اور ان میں ظاہر ہونے والی علامات کے تفصیلی جائزے کے لیے امریکہ بلایا جاچکا ہے۔

گوانگ ژو میں واقع امریکی قونصل خانہ جہاں کے ملازمین پراسرار بیماری کا شکار ہوئے ہیں۔ (فائل فوٹو)
گوانگ ژو میں واقع امریکی قونصل خانہ جہاں کے ملازمین پراسرار بیماری کا شکار ہوئے ہیں۔ (فائل فوٹو)

بیان میں کہا گیا ہے کہ امریکی ماہرین اس بیماری اور اس کی علامات کا تفصیلی جائزے لے رہے ہیں تاکہ یہ تعین کیا جاسکے کہ آیا یہ وہی بیماری ہے جس کا اس سے قبل بھی امریکی سفارت کار نشانہ بن چکے ہیں یا پھر یہ کوئی اور مرض ہے۔

امریکی محکمۂ خارجہ کے بیان میں یہ نہیں بتایا گیا کہ اب تک اس بیماری کا شکار ہونے والے کتنے افراد کو چین سے امریکہ لایا گیا ہے۔

لیکن اخبار 'نیویارک ٹائمز' نے بدھ کو اپنی ایک رپورٹ میں دعویٰ کیا تھا کہ محکمۂ خارجہ نے چین سے اپنے دو شہریوں کو واپس بلایا ہے جو اخبار کے مطابق "پراسرار آوازیں سننے کے بعد بیمار پڑگئے تھے۔"

گزشتہ سال کیوبا میں واقع امریکی سفارت خانے میں تعینات 24 ملازمین اور ان کے اہلِ خانہ بھی پراسرار بیماری کا شکار ہوئے تھے جس کی علامات بے ہوشی، سر پر چوٹ لگنے یا کسی نفسیاتی عارضے میں مبتلا ہونے جیسی تھیں۔

اس واقعے کے بعد امریکہ اور کیوبا میں تعلقات ایک بار پھر کشیدگی کا شکار ہوگئے تھے۔

رواں ہفتے امریکی وزیرِ خارجہ مائیک پومپیو نے کہا تھا کہ محکمۂ خارجہ نے ایک ٹاسک فورس قائم کی ہے جس کا مقصد سفارت کاروں کی صحت سے متعلق سامنے آنے والے "ناقابلِ وضاحت واقعات " سے نبٹنا ہے۔

فیس بک فورم

XS
SM
MD
LG