رسائی کے لنکس

logo-print

امریکی طیاروں سے کرد ملیشیاء کے لیے ساز و سامان گرایا گیا


ترکی کی سرحد کے قریب اس شامی علاقے میں دولت اسلامیہ کے جنگجوؤں اور کرد ملیشیاء کے درمیان گزشتہ کئی ہفتوں سے لڑائی جاری ہے۔

امریکی فوج کا کہنا ہے کہ اس نے جہازوں کے ذریعے شام کے مشرقی علاقے کوبانی میں ’دولت اسلامیہ‘ کے خلاف لڑائی میں مصروف کرد ملیشیاء کے لیے اسلحہ، گولہ و بارود اور طبی سامان گرایا۔

یہ سامان عراق میں کرد حکام کی طرف سے فراہم کیا گیا جسے امریکہ نے مال بردار ہوائی جہازوں کے ذریعے گرایا۔

امریکہ کی سنٹرل کمانڈ کے مطابق اتوار کو دیر گئے کوبانی میں ہوائی جہازوں کے ذریعے گرائے گئے سامان کا مقصد یہ تھا کہ کرد ملیشیاء ’دولت اسلامیہ‘ کی طرف سے شہر پر قبضہ کرنے کی کوششوں کو روک سکیں۔

ترکی کی سرحد کے قریب اس شامی علاقے میں دولت اسلامیہ کے جنگجوؤں اور کرد ملیشیاء کے درمیان گزشتہ کئی ہفتوں سے لڑائی جاری ہے۔

اتوار کو ترکی کے صدر طیب اردوان نے کہا کہ ان کا ملک کردوں کو مسلح نہیں کرے گا کیوں کہ ان کے بقول وہ کردستان ورکر پارٹی کے "مترادف" ہیں جنہیں ترکی اور امریکہ دہشت گرد خیال کرتے ہیں۔

اردوان نے کہا کہ "ترکی کی حکومت سے یہ توقع رکھنا بہت غلط ہو گا کہ ہم اعلانیہ طور پر اپنے نیٹو اتحادی امریکہ سے اس طرح کی مدد کے لیے "ہاں" کہیں۔ اس طرح کی کوئی بھی توقع ہم سے رکھنا ناممکن ہے"۔

ترک صدر کا یہ بیان امریکہ کی طرف سے اس بیان کے بعد آیا جس میں کہا گیا تھا کہ امریکہ نے پہلی مرتبہ شام کی کرد سیاسی پارٹی، کرد ڈیموکریٹک یونین پارٹی، سے براہ راست مذاکرات کیے۔ اس جماعت کے کوبانی میں دولت اسلامیہ کے خلاف لڑنے والے کرد جنگجوؤں سے مراسم ہیں۔

امریکی وزرات خارجہ کے ایک ترجمان نے یہ واضح کیا کہ ایک ملاقات سے ’دولت اسلامیہ‘ کے خلاف کسی مربوط کارروائی کا اظہار نہیں ہوتا ہے۔

عہدیدار کا کہنا تھا کہ امریکہ اس حوالے سے ترکی کے تحفظات کو سمجھتا ہے تاہم ان کا کہنا ہے کہ دونوں ملک کو ایک مشترکہ دشمن کا سامنا ہے۔

اعلیٰ امریکی عہدیدار نے ذرائع ابلاغ کے نمائندوں کو بتایا کہ صدر اوباما نے ہفتہ کو اردوان سے ہونے والی بات چیت کے دوران ان کو یہ بتایا تھا کہ(امریکی) فوج جہازوں کے ذریعے یہ ساز و سامان گرائے گی۔

امریکہ کے صدر براک اوباما نے خطے سے نقل مکانی کرنے والے لگ بھگ 10 لاکھ افراد کی میزبانی پر ترکی کو سراہا۔ ترکی میں پناہ لینے والوں میں سے لگ بھگ چار لاکھ کا تعلق کوبانی سے ہے۔

امریکی عہدیداروں کے مطابق کوبانی کے عوام کو قتل و غارت کا سامنا ہے اور حالیہ ساز و سامان کی فراہمی نہ صرف ایک انسانی ذمہ داری ہے بلکہ اس کا ایک مقصد ( دولت اسلامیہ کے) جنجگوؤں کو کاری ضرب بھی لگانا ہے۔

دولت اسلامیہ کے جنگجو عراق اور شام کے حصوں پر قابض ہیں اور اُن کے خلاف امریکہ کی زیر قیادت اتحادی ممالک فضائیہ کی مدد سے کارروائیاں کر رہے ہیں۔

دریں اثناء عراق کے سرکاری ٹیلی ویژن کے مطابق عراقی فورسز نے صوبہ انبار میں دولت اسلامیہ کے ٹھکانوں کے خلاف کارروائی کی جس میں 60 جنگجو مارے گئے۔

XS
SM
MD
LG