رسائی کے لنکس

سفارتخانوں کی سکیورٹی میں اضافے پر امریکی سفارتکاروں کی آراء


کابل میں امریکی سفارتخانہ
کابل میں امریکی سفارتخانہ

امریکی سفارتکاروں کی نمائندگی کرنے والی ایک یونین نے کہا ہے کہ ایسے دفاتر کی حفاظت کے لیے جو خطرناک مقامات پر واقع ہیں مزید میرین فوجی بھیجنا مثبت اقدام ہے۔

امریکی وزیرِ خارجہ ہلری کلنٹن نے کہا ہے کہ گذشتہ ستمبر میں لیبیا کے مشرقی شہر بن غازی میں امریکی مشن پر جو جان لیوا حملہ ہوا اس کے بعد انھوں نے ساری دنیا میں امریکہ کے سفارتی دفاتر کی حفاظت کو بہتر بنانے کے لیے کئی فوری اقدام کیے۔

لیکن بعض امریکی سفارتکار کہتے ہیں کہ انہیں پریشانی یہ ہے کہ سکیورٹی کے نئے ضابطوں کی وجہ سے ان کے لیے اپنے فرائض انجام دینا اور زیادہ مشکل ہو جائے گا۔

گذشتہ سال11 ستمبر کو امریکہ کے خلاف احتجاج کرنے والوں نے جو پیغمبرِ اسلام کے بارے میں امریکہ میں بننے والی ایک فلم پر ناراض تھے، قاہرہ میں امریکی سفارت خانے پر دھاوا بول دیا۔

اس کے ساتھ ہی مشرقِ وسطیٰ میں دوسرے امریکی سفارتی دفاتر پر جیسے صنعا، یمن میں امریکی سفارت خانے پر حملے ہوئے۔ ان حالات سے مجبور ہو کر امریکہ نے ساری دنیا میں اپنے سفارتی دفاتر پر سکیورٹی کو بہتر بنانے کا حکم دیا۔

اس روز کا بد ترین حملہ لیبیا کے شہر بن غازی پر ہوا جہاں القاعدہ کے مشتبہ عسکریت پسندوں نے لیبیا کے شہر بن غازی میں امریکی کمپاؤنڈز پر حملہ کیا اور امریکی سفیر سمیت، چار امریکیوں کو ہلاک کر دیا۔

بدھ کے روز امریکی سینیٹ کی ایک سماعت میں وزیرِ خارجہ ہلری کلنٹن نے قانون سازوں کو بتایا کہ انھوں نے ان واقعات کی روشنی میں کئی فوری اقدامات کیے ہیں۔

’’میں نے محکمۂ دفاع سے کہا کہ وہ سکیورٹی کی جانچ کرنے والی انٹر ایجنسی ٹیموں میں شامل ہو جائے اور مزید سینکڑوں میرین سکیورٹی گارڈز روانہ کرے۔ میں نے ایسے سفارتی دفاتر کے لیے جو زیادہ خطرے والے مقامات پر واقع ہیں پہلے ڈپٹی اسسٹنٹ سیکرٹری آف اسٹیٹ کو نامزد کیا تا کہ خطرناک مقامات پر واقع سفارتی دفاتر کو ضروری توجہ ملے۔‘‘

وزیرِ خارجہ کلنٹن نے کہا کہ انھوں نے دنیا بھر میں 20 سے زیادہ امریکی سفارتی مشنوں کو خطرناک مقامات قرار دے دیا ہے لیکن انھوں نے ان کے نام نہیں بتائے اور کہا یہ اطلاع خفیہ ہے۔

امریکی سفارتکاروں کی نمائندگی کرنے والی ایک یونین نے کہا ہے کہ ایسے دفاتر کی حفاظت کے لیے جو خطرناک مقامات پر واقع ہیں مزید میرین فوجی بھیجنا مثبت اقدام ہے۔

امریکی فارن سروس ایسو سی ایشن کی صدر سوزین جانسن کہتی ہیں کہ بہت سے امریکی قونصل خانوں اور کچھ سفارت خانوں میں سرے سے کوئی میرین فوجی ہیں ہی نہیں۔

’’میرین فوجی بنیادی طور پر عمارتوں کی حفاظت کے لیے تعینات کیے جاتے ہیں ذاتی محافظوں کے طور پر نہیں۔ پھر بھی کسی ایمرجینسی میں ان کی موجودگی سے آپ کو کچھ قیمتی وقت مل سکتا ہے اور آپ کو یقیناً فرار ہونے میں، یا نقصان کم سے کم کرنے میں مدد مل سکتی ہے۔ لہٰذا ہم ان کی آمد کا خیر مقدم کریں گے لیکن وہ ابھی تک پہنچے نہیں ہیں۔‘‘

جانسن کہتی ہیں کہ انہیں اُمید ہے کہ واشنگٹن میں سرکاری عہدے دار ایسے ضابطے نہیں بنائیں گے جن کی وجہ سے سفارتکاروں کو اپنے میز بان ملکوں میں لوگوں سے رابطے قائم کرنا اور مشکل ہو جائے۔

لوگوں سے رابطے کی ایک حالیہ کوشش میں، کابل میں امریکی سفارتکاروں نے افغان مہمانوں کو امریکی سفارت خانے میں مدعو کیا تاکہ وہ ایک پارٹی میں نومبر کا انتخاب دیکھیں۔

جانسن کہتی ہیں کہ سفارتکار یہ بھی چاہتے ہیں کہ وہ اپنے سفارت خانوں کے باہر لوگوں سے رابطے قائم کر سکیں اور بن غازی پر حملے کے بعد، وہ اپنی اس خواہش کا اظہار اور زیادہ شدت سے کرنے لگے ہیں۔

سوزن جانسن کہتی ہیں کہ ’’اس طرح یہ مسئلہ کھل کر سامنے آ رہا ہے۔ میں تو یہ دیکھ رہی ہوں کہ فارن سروس کے عملے کا خیال یہ ہے کہ یہ نہیں کرنا چاہیئے کہ ہم کسی قسم کا کوئی خطرہ مول نہ لیں، کہیں بھی نہ جائیں جب تک ہمیں 64 جگہوں سے اجازتیں نہ مل جائیں۔‘‘

جانسن کہتی ہیں کہ سکیورٹی کو بہتر کرنے کا ایک اور طریقہ یہ ہے کہ سفارت کاروں کو غیر ملکی زبانوں اور بیرونی ملکوں کے بارے میں معلومات کی تربیت فراہم کرنے کے لیے وفاقی فنڈنگ میں اضافہ کیا جائے۔

وہ کہتی ہیں کہ اس قسم کی تربیت سے سفارتکار خطرناک حالات سے بہتر طور پر بچ سکیں گے اور اگر ایسا کوئی واقعہ ہوا تو وہ مناسب کارروائی کر سکیں گے۔
XS
SM
MD
LG