رسائی کے لنکس

داعش موصل میں پھنس چکی ہے: امریکی ایلچی


بریٹ میکگرک

امریکی اور عراقی حکام نے کہا ہے کہ اتوار کو عراق کے شہر موصل کی طرف جانے والی آخری سڑک پر عراقی فورسز کے کنٹرول کے بعد اب شدت پسند تنظیم داعش کے جنگجوؤں کو مغربی موصل میں محصور کر دیا گیا ہے۔

امریکہ کے ایلچی بریٹ میکگرک نے بغداد میں بتایا کہ "داعش پھنس چکی ہے۔۔۔موصل میں بچ جانا والا (داعش کا) کوئی بھی جنگجو یہاں پر مرے گا۔"

انھوں نے امریکی زیر قیادت اتحاد کی موصل کی لڑائی میں فضائی کارکردگی کو سراہتے ہوئے اسے "تاریخ کی جامع اور لگاتار فضائی مہم" قرار دیا۔

ان کا یہ بیان ایک ایسے وقت سامنے آیا جب عراق کے جنرل عبدالامیر راشد یار اللہ نے یہ اطلاع دی کہ انسداد دہشت گردی کے عراقی فوجیوں کی زیر قیادت فورسز نے موصل میں داعش کے زیر قبضہ ایک گنجان آباد علاقے کی طرف پیش قدمی کی ہے۔

سرکاری ٹی وی نے جمعہ کو بتایا تھا کہ مغربی موصل کے نصف حصے کے کنٹرول عراقی فورسز نے حاصل کر لیا ہے۔ ان خبروں میں یہ دعویٰ بھی کیا گیا تھا کہ اب بچ جانے والے شدت پسند موصل کے قدیمی شہر میں شمال کی جانب ہی محدود ہیں۔

عراقی فورسز نے موصل کے مشرقی حصے کا کنٹرول جنوری میں حاصل کیا تھا۔

اس جاری لڑائی کے باعث یہاں مقامی آبادی کے لیے بحرانی صورتحال پیدا ہونے کا خدشہ ظاہر کیا جا رہا ہے اور اقوام متحدہ اور پناہ گزینوں کے لیے عراقی حکام کا کہنا ہے کہ مغربی موصل میں اب بھی اندازاً سات لاکھ لوگ مقیم ہیں جنہیں زبردستی یہاں سے نقل مکانی کرنا پڑ سکتی ہے۔

اقوام متحدہ کے ادارہ برائے پناہ گزین "یو این ایچ سی آر" نے ہفتہ کو بتایا تھا کہ اس کے اندازوں کے مطابق تین ہفتے قبل مغربی موصل کے لیے لڑائی شروع ہونے کے بعد سے ان علاقوں سے پانچ ہزار عام شہری نقل مکانی کر چکے ہیں۔

فیس بک فورم

XS
SM
MD
LG