رسائی کے لنکس

logo-print

امریکہ اور چین کے درمیان تجارتی مذاکرات جاری


مذاکرات میں شریک امریکی وفد بیجنگ میں چینی حکام سے ملاقات کے بعد اپنے ہوٹل واپس جا رہا ہے۔

دو روزہ مذاکرات میں دنیا کی دونوں بڑی معیشتیں ایک دوسرے کی برآمدات پر عائد کیے جانے والے اضافی ٹیکسوں کا معاملہ حل کرنے کی کوشش کریں گی۔

امریکہ نے چین کے ساتھ تجارتی تنازعات پر جاری مذاکرات میں بڑی پیش رفت ہونے کی امید کا اظہار کیا ہے۔

امریکہ کے وزیرِ تجارت ولبر راس نے نشریاتی ادارے 'سی این بی سی' سے گفتگو کرتے ہوئے کہا ہے کہ امریکہ اور چین کے درمیان تجارتی معاہدہ جلد طے پا جائے گا۔

پیر کو ایک انٹرویو میں امریکی وزیر کا کہنا تھا کہ وہ پُراُمید ہیں کہ اس معاہدے سے دونوں ملکوں کے درمیان موجود تمام مسائل کا حل نکل آئے گا۔

امریکہ اور چین کے حکام کے درمیان تجارتی امور پر مذاکرات پیر کو شروع ہوئے ہیں۔

دو روزہ مذاکرات میں دنیا کی دونوں بڑی معیشتیں ایک دوسرے کی برآمدات پر عائد کیے جانے والے اضافی ٹیکسوں کا معاملہ حل کرنے کی کوشش کریں گی۔

دو روزہ مذاکرات کے آغاز پر چینی حکام نے بھی تنازعات کے حل کی امید کا اظہار کیا ہے۔

لیکن ساتھ ہی چینی حکومت نے شکایت کی ہے کہ امریکی بحریہ کا ایک جنگی جہاز جنوبی چین کے متنازع جزائر کی حدود میں گشت کرتا دیکھا گیا ہے۔

چین کی وزارتِ خارجہ کے ترجمان لو کانگ نے صحافیوں کو بتایا ہے کہ چین نے امریکی جنگی جہاز کے گشت پر امریکہ کو سخت تنبیہ کی ہے۔

لیکن اس نئے تنازع کے باوجود دونوں ملکوں کے درمیان تجارتی مذاکرات پیر اپنے وقت پر خوشگوار ماحول میں شروع ہوئے۔ مذاکرات کے پہلے روز چین کے نائب وزیرِ اعظم لی ہی بھی کچھ دیر کے لیے شریک ہوئے۔

تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ نائب وزیرِ اعظم کی شرکت سے مذاکرات کی اہمیت اور ان سے وابستہ امیدوں اور توقعات کا اظہار ہوتا ہے۔

تجارتی مذاکرات گزشتہ ماہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ اور چین کے صدر ژی جن پنگ کے درمیان ہونے والے اس اتفاقِ رائے کا نتیجہ ہیں جس کے تحت دونوں ملکوں نے درآمدات پر ٹیکسوں کے نفاذ پر جاری تنازع 90 روز کے لیے موخر کرنے پر اتفاق کیا تھا۔

گزشتہ ہفتے امریکی صدر ٹرمپ نے بھی اپنے ایک بیان میں امید ظاہر کی تھی کہ چین کے ساتھ تمام تجارتی تنازعات طے پاجائیں گے۔

فیس بک فورم

XS
SM
MD
LG