رسائی کے لنکس

logo-print

امریکہ: فرگوسن میں دو پولیس اہلکاروں کو گولی مار دی گئی


یہ واقعہ محکمہ انصاف کی جانب سے ایک رپورٹ کے بعد فرگوسن شہر کے پولیس سربراہ کے استعفے کے چند گھنٹے کے بعد پیش آیا۔

جمعرات کو علی الصبح امریکی ریاست میسوری کے شہر فرگوسن میں دو پولیس اہلکاروں کو گولی مار دی گئی۔

یہ واقعہ محکمہ انصاف کی جانب سے ایک رپورٹ کے بعد فرگوسن شہر کے پولیس سربراہ کے استعفے کے چند گھنٹے کے بعد پیش آیا۔ اس رپورٹ میں پولیس محکمہ پر الزام لگایا گیا تھا کہ وہ نسلی امتیاز کی بنیاد پر پولیس کارروائیاں کرتے ہیں۔

پولیس ترجمان نے کہا ہے کہ جن اہلکاروں کو گولی ماری گئی ان کی حالت کے بارے میں ابھی کوئی اطلاعات نہیں۔

’’سینٹ لوئس پوسٹ ڈسپیچ‘‘ اخبار کے مطابق اس وقت گولیاں چلنے کی آوازیں آئیں جب مظاہرین فرگوسن پولیس اسٹیشن کے باہر جمع تھے۔

عینی شاہدین کے مطابق لگتا ہے کہ گولیاں اسٹیشن کے سامنے سڑک پار ایک پہاڑی سے چلائی گئیں۔ گولیاں چلنے کے بعد پولیس اہلکاروں کی بھاری تعداد کو اسٹیشن کے باہر تعینات کر دیا گیا۔

فرگوسن پولیس چیف ٹامس جیکسن نے ایک سفید فام پولیس افسر ڈیرن ولسن کے ایک نہتے، نو عمر سیاہ فام لڑکے کو سڑک پر جھڑپ کے دوران گولی مارنے کے سات ماہ بعد بدھ کو اپنا استعفیٰ پیش کیا۔ مائیکل براؤن نامی یہ لڑکا بعد میں زخموں کی تاب نہ لا کر چل بسا تھا۔

اس مہلک فائرنگ کے واقعے کے بعد پولیس چیف کو محکمے کے اندر نسلی امتیاز کی تلخ شکایات کا سامنا تھا۔

اپنی رپورٹ میں محکمہ انصاف نے فرگوسن پولیس ڈیپارٹمنٹ پر شہر کی سیاہ فام اکثریت کے خلاف تعصب برتنے پر تنقید کی ہے، جس میں بلاوجہ گاڑیوں کو روکنا، گرفتاریاں اور چالان شامل ہیں۔ رپورٹ میں یہ بھی کہا گیا تھا کہ شہر کے حکام یہاں کی عدالتوں کو پیسہ کمانے کا ذریعہ سمجھ کر چلاتے ہیں۔

محکمہء انصاف کی رپورٹ جاری ہونے کے بعد پولیس چیف شہر کا چھٹا افسر ہے جو مستعفی ہوا۔ اس سے پہلے فرگوسن شہر کے منیجر اور میونسپل کورٹ کے ایک جج نے پچھلے ہفتے استعفیٰ دیا تھا جبکہ عدالت کے ایک کلرک اور دو پولیس اہلکاروں کو یا تو برطرف کر دیا گیا یا انہوں نے خود ہی استعفیٰ پیش کر دیا جن کے بارے میں رپورٹ میں کہا گیا تھا کہ انہوں نے نسلی امتیاز پرمبنی ای میل بھیجے۔

XS
SM
MD
LG