رسائی کے لنکس

پابندی بحال کرنے کے حق میں دلائل عدالت میں جمع


امریکہ کے محکمہ دفاع نے سان فرانسسکو میں وفاقی ’اپیلز کورٹ‘ میں صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی طرف سے سات مسلم اکثریتی ممالک کے شہریوں پر سفری پابندیوں کے حکم نامے کو بحال کرنے کے حق میں اپنے دلائل جمع کروا دیئے ہیں۔

نائنتھ یو ایس سرکٹ کورٹ آف اپیلز منگل سے اس معاملے پر سماعت شروع کرتے ہوئے فریقین کے دلائل سنے گی۔

محکمہ انصاف کا جمع کروائی گئی دستاویز میں استدلال ہے کہ پابندی "امریکہ میں غیر ملکیوں اور پناہ گزینوں کی آمد سے متعلق صدر کے اختیارات کا قانونی عمل ہے۔"

محکمے نے اس پابندی کو معطل کرنے کے جج کے فیصلے کو غلطی قرار دیا۔

دوسری طرف امریکی وکلا، لگ بھگ 100 کمپنیوں، دو ریاستوں اور سابق وزرائے خارجہ جان کیری اور میڈلین البرائٹ سمیت ڈیموکریٹس کے ایک گروپ نے بھی پابندی کے خلاف اپنے دلائل عدالت میں جمع کروائے ہیں۔

ڈیموکریٹس کا موقف ہے کہ پابندی کا فیصلہ "غیرمحتاط انداز میں تیار اور نافذ کیا گیا اور اس کی وضاحت نامناسب تھی۔"

تحریری دلائل میں ٹرمپ کی اس دلیل کہ پابندی قومی سلامتی کو بڑھائے گی، ڈیموکریٹس گروپ کا کہنا تھا کہ "ہماری نظر میں یہ حکم نامہ وہ ہے جو ہمیں تحفظ فراہم کرنے کی بجائے بالآخر امریکہ کی قومی سلامتی کو متاثر کرے گا۔"

مزید برآں ایپل، فیس بک، گوگل، مائیکروسافت اور ٹوئٹر سمیت ٹیکنالوجی کی 97 کمپنیوں نے بھی اس پابندی کے خلاف موقف عدالت میں جمع کروایا۔

واشنگٹن اور منیسوٹا کی ریاستوں نے وکلا کے مختلف گروپوں شہری حقوق کی تنظیموں سمیت دلائل جمع کروائے۔

پابندی معطل ہونے پر امریکہ داخل ہونے والے صومالیہ کے شہری اسحٰق احمد امریکہ داخل ہونے میں کامیاب ہوئے
پابندی معطل ہونے پر امریکہ داخل ہونے والے صومالیہ کے شہری اسحٰق احمد امریکہ داخل ہونے میں کامیاب ہوئے

توقع ہے کہ یہ معاملہ سپریم کورٹ تک جائے گا۔

صدر ٹرمپ نے ایک حکم نامے کے تحت ایران، عراق، لیبیا، شام، یمن، سوڈان اور صومالیہ کے شہریوں پر 90 جب کہ پناہ گزینوں کے لیے 120 روز تک امریکہ میں داخلے کی پابندی عائد کی تھی، جس کا مقصد قومی سلامتی کے تناظر میں امریکہ آنے والوں کی جانچ پڑتال کے عمل کو مزید موثر بنانا بتایا جاتا ہے۔

تاہم اس پابندی کے خلاف امریکہ سمیت دنیا کے مختلف ملکوں میں مظاہرے دیکھنے میں آئے جن میں اس پابندی کو ایک مخصوص مذہب کے پیروکاروں پر پابندی قرار دیا جا رہا ہے۔

تاہم ٹرمپ انتظامیہ کا موقف ہے کہ اس پابندی کا مقصد ہرگز مسلمانوں کے خلاف اقدام نہیں ہے۔

XS
SM
MD
LG