رسائی کے لنکس

logo-print

پاکستان کو امریکہ سے ملنے والی امداد 'بہت معمولی' ہے: وزیراعظم


پاکستانی وزیراعظم شاہد خاقان عباسی (فائل فوٹو)

امریکہ کی طرف سے پاکستان سے متعلق سخت بیانات اور امداد معطل کرنے کے بیانات پر پاکستان کے جوابی بیانات کا سلسلہ بھی جاری ہے جو کہ دونوں ملکوں کے درمیان تعلقات میں مزید بڑھتے ہوئے تناؤ کی عکاسی کرتا ہے۔

ایک امریکی عہدیدار کی طرف سے پاکستان کے لیے امداد کی مد میں تقریباً دو ارب ڈالر روکنے پر غور کیے جانے کے بیان پر وزیراعظم شاہد خاقان عباسی کا کہنا ہے کہ ان کے نزدیک ایسے بیانات مبہم ہیں۔

برطانوی اخبار 'دی گارڈین' کو دیے گئے تازہ انٹرویو میں وزیراعظم کا کہنا تھا کہ دو ارب ڈالر کے برعکس پاکستان کو اس رقم کا محض بہت کم حصہ ہی ملا ہے۔

انھوں نے کہا کہ گزشتہ پانچ سالوں میں ہر برس ایک کروڑ ڈالر سے بھی کم امداد ملی جو کہ ان کے بقول بہت ہی معمولی ہے، لہذا جب وہ 20 کروڑ، پچاس کروڑ اور 90 کروڑ امداد کی کٹوتی کی خبریں پڑھتے ہیں تو انھیں نہیں معلوم کہ یہ کون سی امداد کی باتیں ہو رہی ہیں۔

امریکہ کے ادارہ برائے بین الاقوامی ترقی کے اعدادوشمار کے مطابق 2016ء میں پاکستان کو 77 کروڑ 80 لاکھ ڈالر کی معاونت فراہم کی گئی جس کا 35 فیصد عسکری اعانت پر مبنی تھا۔

امریکہ، پاکستان سے اپنے ہاں مبینہ طور پر واقع دہشت گردوں کی پناہ گاہوں کے خلاف فیصلہ کن کارروائی نہ کرنے پر شاکی ہے اور یکم جنوری کو اپنی پہلی ہی ٹویٹ میں امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اس پر پاکستان کی گوش مالی کی تھی۔

ٹرمپ انتظامیہ کا اصرار ہے کہ پاکستان خاص طور پر دہشت گرد گروپ حقانی نیٹ ورک کے خلاف کارروائی کرے جو افغانستان میں مہلک حملوں میں ملوث ہے۔

پاکستان کی عسکری و سیاسی قیادت یہ کہہ چکی ہے کہ ملک میں دہشت گردوں کے خلاف بلاامتیاز کارروائیاں کرتے ہوئے عسکریت پسندوں کے تمام ٹھکانوں کو تباہ کر دیا گیا ہے اور اگر امریکہ کے پاس کوئی معلومات ہیں تو اس کا پاکستان کے ساتھ تبادلہ کیا جائے اور اس پر پاکستانی فورسز کارروائی کریں گی۔

اسی دوران وزیر خارجہ خواجہ آصف کا کہنا ہے کہ پاکستان سے تمام دہشت گرد نیٹ ورکس کا خاتمہ کر دیا گیا ہے لیکن اس بات سے انکار نہیں کیا جا سکتا کہ اب بھی حقانی نیٹ ورک کے دہشت گرد پاکستان میں غیر منظم طور پر موجود ہو سکتے ہیں۔

ایک نجی ٹی وی چینل کے پروگرام میں گفتگو کرتے ہوئے ان کا کہنا تھا کہ امریکہ کی طرف سے بار بار عائد کیے جانے والے الزامات کو کلی طور پر رد نہیں کیا جا سکتا لیکن ان دہشت گردوں کی پاکستان میں اب کوئی منظم موجودگی باقی نہیں رہی۔

"بار بار ہمارے جو الزام ہے وہ حقانی نیٹ ورک کا ہے، ہم اس الزام کو قطعی طور پر رد نہیں کرتے کلی طور پر مسترد نہیں کرتے۔ ہم ان کو کہتے ہیں کہ ہمارے پاس ان کی کوئی منظم موجودگی نہیں ہے ہم نے منظم پناہ گاہیں تھیں یا جتنے بھی علاقے ان کے قبضے میں تھے شمالی و جنوبی وزیرستان تھا خیبر تھا یا باجوڑ تھا یہ سارے ہم نے ختم کر دیے ہیں۔۔۔وہ آئیں اور دیکھیں، غیر منظم موجودگی کا امکان ہو سکتا ہے۔"

حزب مخالف حکومت پر زور دے رہی ہے کہ اس معاملے پر پارلیمان کو اعتماد میں لیا جائے۔

ہفتہ کو صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے قومی اسمبلی میں قائد حزب اختلاف سید خورشید شاہ نے ایک بار پھر کہا کہ ملکی و ریاستی مسائل پر سیاست نہیں کی جا سکتی اور مل بیٹھ کر اس مسئلے کا حل تلاش کرنا ہوگا۔

حکومت نے قومی اسمبلی کا اجلاس 12 جنوری کو طلب کر رکھا ہے۔

فیس بک فورم

XS
SM
MD
LG