رسائی کے لنکس

logo-print

کارکردگی نہ دکھانے پر پاکستان کو 1.9 ارب ڈالر نہیں ملیں گے: امریکی اہل کار


امریکہ نے کہا ہے کہ معطل کی گئی فوجی امداد کے فیصلے سے پاکستان کو تقریباً دو ارب ڈالر سے محروم ہونا پڑے گا۔

یہ بات ایسے میں کہی گئی ہے جب جمعے کے روز دونوں ملکوں کے چوٹی کے اہل کاروں نے دہشت گردی کے خلاف جنگ کے سلسلے میں اپنے اختلافات پر لفظی لے دے جاری رکھی۔

امریکی انتظامیہ کے ایک اعلیٰ اہل کار نے جمعے کے روز کہا کہ ’’پاکستان کے پاس کافی وقت تھا اس بات کے اظہار کے لیے کہ وہ ہماری گزارشات کو سنجیدگی سے لیتا ہے۔‘‘

اہل کار نے کہا کہ ’’ہم نے اپنی توقعات کو بالکل واضح انداز میں بیان کر دیا ہے۔ جس قسم کے بامقصد اقدام کے ہم خواہاں تھے، بدقسمتی سے ہم نے وہ بات نہیں دیکھی‘‘۔

ٹرمپ انتظامیہ نے جمعرات کے روز پاکستان کو فوجی امداد روکنے کا اعلان کیا اور کہا کہ یہ تب تک منجمد رہے گی جب تک پاکستان افغان طالبان اور حقانی نیٹ ورک کے خلاف ’’فیصلہ کُن‘‘ کارروائی نہیں کرتا۔

حکام نے جمعے کے روز بتایا کہ رقوم کی فراہمی میں بندش سے ایک ارب ڈالر کے فوجی آلات کا معاملہ متاثر ہوگا؛ جب کہ انسداد دہشت گردی آپریشنز پر اٹھنے والے اخراجات کے حوالے سے 90 کروڑ ڈالر کی ادائگی کے معاملے پر بندش لگا دی گئی ہے۔

اس سے قبل، جمعرات کو محکمہٴ خارجہ کی ترجمان، ہیدر نوئرٹ نے بتایا تھا کہ اس سے پہلے اگست میں پاکستان کو فوجی ساز و سامان خریدنے کے لیے دی جانے والی 25 کروڑ 55 لاکھ ڈالر کی مالیت کی امداد بھی روک دی گئی تھی۔

اُنھوں نے کہا کہ جمعرات کو بند کی جانے والی امداد کا تعلق ’سکیورٹی اسسٹینس‘ سے ہے، ’’اور یہ کہ، جب تک پاکستان حقانی نیٹ ورک اور افغان طالبان کے خلاف فیصلہ کُن کارروائی نہیں کرتا تب تک یہ معاونت بند رہے گی‘‘۔

ترجمان نے کہا تھا کہ ’’پاکستان کی جانب سے دہشت گردی کے خلاف مؤثر کارروائی نہ کرنے کے نتیجے میں، افغانستان میں تعینات امریکی فوج بھی حملوں کی زد میں آتی ہے‘‘۔

فیس بک فورم

XS
SM
MD
LG