رسائی کے لنکس

کم جونگ ان کے بھائی کے قتل میں شمالی کوریا ملوث تھا: امریکہ


کم جونگ نیم کی قتل سے کچھ دیر قبل کی کیمرہ فوٹیج جس میں وہ کوالالمپور کے ہوائی اڈے پر تعینات سکیورٹی اہلکاروں کو اپنے چہرے پر کیے جانے والے اسپرے کے متعلق بتا رہے ہیں (فائل فوٹو)

کم جونگ نام کئی برسوں سے خود ساختہ جلاوطنی پر چین میں مقیم تھے اور انہیں اپنے سوتیلے بھائی کم جونگ ان کے اقتدار کے لیے متوقع خطرہ بھی سمجھا جاتا تھا۔

امریکی حکام نے دعویٰ کیا ہے کہ شمالی کوریا کے سربراہ کم جونگ ان کے سوتیلے بھائی کے قتل میں شمالی کوریا کی حکومت ملوث تھی۔

گزشتہ سال فروری میں ملائیشیا کے دارالحکومت کوالالمپور کے ہوائی اڈے پر دو خواتین نے کم جونگ نام کے چہرے پر کوئی اسپرے کیا تھا جس کے فوراً بعد ان کی موت واقع ہوگئی تھی۔

دونوں خواتین اس وقت ملائیشیا کی حکومت کی تحویل میں ہیں جن کے خلاف زہریلی گیس کے ذریعے کم جونگ نیم کو قتل کرنے کے الزام میں مقدمہ چلایا جارہا ہے۔

ملزم خواتین میں سے ایک انڈونیشیا اور دوسری ویتنام کی شہری ہے۔ دونوں خواتین کا موقف ہے کہ انہیں ایک مزاحیہ ٹی وی شو میں حصہ لینے کا جھانسا دے کر استعمال کیا گیا جس کے دوران ان سے مقتول کے چہرے پر اسپرے کرنے کا کہا گیا تھا۔

کم جونگ نام کئی برسوں سے خود ساختہ جلاوطنی پر چین میں مقیم تھے اور انہیں اپنے سوتیلے بھائی کم جونگ ان کے اقتدار کے لیے متوقع خطرہ بھی سمجھا جاتا تھا۔

کم جونگ نام کے قتل کی عالمی برادری نے سخت مذمت کی تھی اور شمالی کوریا کو اس پر موردِ الزام ٹہرایا تھا۔

منگل کو امریکی حکام نے اعلان کیا ہے کہ ان کی جانب سے کی جانے والی باضابطہ تحقیقات میں بھی ثابت ہوا ہے کہ شمالی کوریا کی حکومت نے کم جونگ نام کو 'وی ایکس' نامی انتہائی طاقت ور زہریلی گیس سے ہلاک کیا۔

امریکی محکمۂ خارجہ کی خاتون ترجمان ہیتھر نوارٹ کی جانب سے جاری بیان کے مطابق ایک ہوائی اڈے پر یوں کھلم کھلا کیمیائی ہتھیار کے ذریعے ایک شخص کی جان لے لینا عالمی ضابطوں اور قواعد کی کھلی خلاف ورزی اور شمالی کوریا کی بے رحمی کا اظہار ہے۔

تاہم بیان میں یہ وضاحت نہیں کی گئی کہ امریکہ کن شواہد کی بنیاد پر اس نتیجے پر پہنچا کہ اس قتل میں شمالی کوریا کی حکومت براہِ راست ملوث تھی۔

فیس بک فورم

XS
SM
MD
LG