رسائی کے لنکس

logo-print

بچیوں کی تعلیم کے فروغ کا مؤثر اقدام کیا جائے: مشیل اوباما


اپنی اپیل میں امریکی خاتون اول نے یاد دلایا کہ ’’دنیا بھر کے ہر حصے میں ملالہ کی طرح کی لاکھوں بچیاں ہیں جو اسکول میں نہیں ہیں۔ بچیاں جو روشن دماغ، محنتی اور پڑھنے کے لیے بے تاب ہیں‘‘

امریکی خاتونِ اول، مشیل اوباما نے ایک عالمی اپیل جاری کرتے ہوئے کہا ہے کہ ضرورت اِس بات کی ہے کہ دنیا بھر کی بچیاں مشکلات پر حاوی پا سکیں اور تعلیم حاصل کریں، تاکہ وہ ’’بامعنی اور سیر حاصل زندگی گزار سکیں‘‘۔

اُن کی یہ اپیل لڑکیوں کے بین الاقوامی دن کی مناسبت سے سامنے آئی ہے، جس کی اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی نے سال 2011 میں ابتدا کی، ’’تاکہ بچیوں کے حقوق کو تسلیم کیا جائے اور وہ دنیا بھر میں درپیش مخصوص چیلنجوں سے نبردآزما ہو سکیں‘‘۔

منگل کے روز ’سی این این ڈاٹ کام‘ پر شائع ہونے والے ایک ادارتی مضمون میں، مشیل اوباما نے ’لیٹ گرلز لَرن‘ کی حمایت پر زور دیا، جس کا مقصد ایسی بچیوں کی تعلیم کے فروغ کی عالمی کوشش ہے جو اسکول میں داخل نہیں ہیں۔

خاتونِ اول نے یاد دلایا کہ اس منصوبے میں اُن کی دلچسپی اُس وقت پیدا ہوئی جب چند برس قبل اُن کے ساتھ ملالہ یوسف زئی کی ملاقات ہوئی، جنھیں طالبان نے پاکستان میں سر پر گولی ماری، جو تعلیم کے لیے اسکول جا رہی تھیں۔

خاتون اول نے مزید کہا کہ ’’میں نے دیکھا کہ دہشت گرد، جنھوں نے اُنھیں تقریباً ہلاک کر ہی دیا تھا، وہ اُن کی آواز کو دبانا چاہتے تھے، اُن کے تعلیم کے حصول کے ارادوں کو کچلنا چاہتے تھے اور اُن کے اختیار کو صلب کرنا چاہتے تھے‘‘۔

اُنھوں نے یاد دلایا کہ ’’دنیا بھر کے ہر حصے میں ملالہ کی طرح کی لاکھوں بچیاں ہیں جو اسکول میں نہیں ہیں۔ بچیاں جو روشن دماغ، محنتی اور پڑھنے کے لیے بے تاب ہیں‘‘۔

گذشتہ برس، مشیل اوباما نے لائبیریا اور مراقش جسے افریقی ملکوں کا دورہ کیا، جہاں اُنھوں نے کہا تھا کہ متعدد لڑکیاں ایسی ہیں جو تعلیم کے حصول کے لیے جدوجہد کر رہی ہیں۔
گذشتہ سال، اُنھوں نے کہا تھا کہ ’بچیوں کو پڑھنے دیں‘ کی مہم آگے بڑھ رہی ہے۔ حالانکہ، خاتون اول کی حیثیت سے، اُنھیں اختیار حاصل نہیں کہ وہ قانون بنا سکیں یا بجٹ مختص کریں۔

دنیا کے ممالک اور دنیا کی بڑی کمپنیوں اور اداروں نے اِس پروگرام کے لیے رقوم اور وسائل کا عطیہ دیا ہے۔ کینیڈا اور میکسیکو اور نورڈک ممالک تعاون کر رہے ہیں، جب کہ جاپان، جنوبی کوریا اور برطانیہ نے تقریباً 60 کروڑ ڈالر فراہم کرنے کا وعدہ کیا ہے۔

اس پروگرام کے لیے امریکہ ایک ارب ڈالر کی سرمایہ کاری کر رہا ہے، جب کہ 50 سے زائد ملکوں میں ’لیٹ گرلز لَرن‘ پروگرام کا کام جاری ہے۔ عالمی بینک آئندہ پانچ سالوں کے دوران اِس پروگرام کے لیے 2.5 ارب ڈالر کی سرمایہ کاری کرے گا۔

XS
SM
MD
LG