رسائی کے لنکس

logo-print

چین کی طرز پر، ٹرمپ انتظامیہ غیر ملکی امداد کی پالیسی پر نظرثانی کی قائل


نیروبی

کینیا کے دارالحکومت، نیروبی سے ساحل سمندر تک کا سفر کم ہو کر نصف رہ گیا ہے، جہاں کے نئے ریلوے نظام کی تعمیر پر 3.2 ارب ڈالر کی لاگت آئی ہے۔

چین کی جانب سے پاکستان میں نقل و حمل، توانائی اور آبی سفر کے زیریں ڈھانچے پر مشتمل کام کے نتیجے میں پاکستان اہم معاشی راہداری بنتا دکھائی دے رہا ہے۔ نئے صنعتی زون تعمیر ہونے سے، تھائی لینڈ شمسی توانائی، ربڑ اور صنعتی منوفیکچرنگ کے کارخانے لگنے سے پُراعتماد لگتا ہے اور وہ 2021ء میں ایک اجلاس بلانے والا ہے جس میں 500 ادارے شرکت کریں گے۔

یہ تما م منصوبے چین کے فخریہ ’بیلٹ اینڈ روڈ‘ تعمیرات سے تعلق رکھتے ہیں، جنھیں ایشیا، افریقہ اور بحرالکاہل میں اربوں ڈالر کی لاگت سے زیریں ڈھانچے کی صورت میں تعمیر کیا جا رہا ہے۔ اِس کام کے عالمی نوعیت کے اثرات مرتب ہوں گے، جس کے باعث امریکی صدر ڈونالڈ ٹرمپ کی انتظامیہ اس بات مجبور ہوگی کہ وہ ’امریکہ فرسٹ‘ کی حکمت عملی پر عمل پیرا ہوتے ہوئے غیر ملکی اعانت کے پروگرام پر کی جانے والی کٹوتی پر نظرثانی کرے۔

ڈینئل رونڈے واشنگٹن میں قائم 'سینٹر فور اسٹریٹجک اینڈ انٹرنیشنل اسٹڈیز (سی ایس آئی ایس)' میں تجزیہ کار ہیں۔ اُنھوں نے کہا ہے کہ جب انتظامیہ کے ’’انتہائی چوٹی کے افراد‘‘ نے بیرون ملک دورہ کیا۔ وہ اس نتیجے پر پہنچے کہ ’’چین ہمارا حق مار رہا ہے۔ اُنھوں نے اپنے دل میں سوچا کہ ہمیں کچھ نہ کچھ کرنا ہوگا‘‘۔

انتظامیہ اور امریکی کانگریس خاموشی سے نجی سرمایہ کاری، انسانی ہمدردی کی نوعیت کی امداد اور بیرون ملک خواتین کو بااختیار بنانے سے متعلق کئی اقدام کرتی رہی ہے۔

جسے پالیسی میں تبدیلی کا ایک اہم اقدام قرار دیا جا رہا ہے۔ ٹرمپ نے اس ماہ نام نہاد ’بِلڈ (تعمیر) ایکٹ‘ پر دستخط کیے، جسے 'سی ایس آئی ایس' کا غیر جانبدار ادارہ ’’ایک عشرے کے دوران کی اہم امریکی قانون سازی‘‘ قرار دیا گیا ہے۔

فیس بک فورم

XS
SM
MD
LG