رسائی کے لنکس

صدر ٹرمپ کے ویٹو کے خلاف امریکی ایوان میں ووٹنگ آج ہو گی


فائل فوٹو
فائل فوٹو

امریکی ایوان نمائندگان میں آج صدر ٹرمپ کی طرف سے کانگریس کو بائی پاس کرتے ہوئے ملک میں ہنگامی صورت حال کے نفاذ کے فیصلے کو بے اثر کرنے کے لئے آج ووٹنگ ہو گی۔

تاہم تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ اس بات کی اُمید کم ہی ہے کہ ایوان میں ڈیموکریٹک پارٹی کی اکثریت کے باوجود اس مقصد کے لئے مطلوبہ دو تہائی اکثریت حاصل ہو پائے گی۔ ایوان 435 ارکان پر مشتمل ہے اور صدر ٹرمپ کے ویٹو کو رد کرنے کے لئے 290 ووٹوں کی ضرورت ہو گی۔

صدر ٹرمپ میکسیکو کے ساتھ سرحد پر دیوار تعمیر کرنے کے لئے کانگریس سے اربوں ڈالر کی فنڈنگ منظور کرنے کا مطالبہ کرتے رہے ہیں۔ تاہم کانگریس نے اُن کے اس مطالبے کو رد کر دیا تھا۔ جس کے بعد صدر ٹرمپ نے کانگریس کی قرارداد کو ویٹو کرتے ہوئے ملک کی جنوبی سرحد پر ہنگامی صورت حال کا نفاذ کر دیا اور یوں کانگریس کو بائی پاس کرتے ہوئے دیگر ذرائع سے مطلوبہ فنڈنگ حاصل کرنے کا اعلان کیا۔

پنٹاگان نے پیر کے روز دیوار کی تعمیر کے لئے ایک ارب ڈالر فراہم کرنے کا عندیہ دیا تھا۔ تاہم یہ رقم صدر ٹرمپ کی طرف سے مانگی گئی فنڈنگ سے کہیں کم ہے۔

بعض تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ آج منگل کی ووٹنگ رپبلکن پارٹی کے اراکین کی طرف سے صدر ٹرمپ کی وفاداری کے لئے ایک امتحان ثابت ہو گی۔ اس سے قبل 25 فروری کو سرحد پر دیوار کی تعمیر کے خلاف ووٹنگ میں رپبلکن پارٹی کے 13 ارکان نے ڈیموکریٹک پارٹی کا ساتھ دیتے ہوئے قرار داد کے حق میں ووٹ ڈالا تھا۔ یوں یہ قرارداد 182 کے مقابلے میں 245 ووٹوں سے منظور کر لی گئی تھی۔

ماہرین کا کہنا ہے کہ آج منگل کے روز ہونے والی ووٹنگ کے نتائج اس سے زیادہ مختلف نہیں ہوں گے اور دو تہائی اکثریت یعنی 290 ووٹوں کی حمایت مشکل ہی ہو گی۔

ٹیکساس سے رپبلکن کانگریس مین کینی مرچنٹ کا کہنا ہے کہ اُن کے خیال میں گزشتہ قرارداد کے حق میں کچھ رپبلکن ارکان نے اس لئے ووٹ دیا تھا کہ وہ آئین کی پاسداری کے حامی تھے اور صدر ٹرمپ کی طرف سے کانگریس کے اختیار کو تسلیم نہ کرنے کے خلاف تھے۔ تاہم کینی مرچنٹ نے خود اس قرارداد کی مخالفت میں ووٹ دینے ہوئے کہا تھا کہ اُن کے خیال میں ملک کی جنوبی سرحد پر واقعی ہنگامی صورت حال موجود ہے۔

تاہم ایک اور رپبلکن کانگریس مین ٹام کول کہتے ہیں کہ ملر رپورٹ کے نتائج سامنے آنے کے بعد اس بات کا امکان کم ہے کہ رپبلکن ارکان صدر ٹرمپ کی مخالفت میں ووٹ ڈالیں گے۔

اُن کا کہنا ہے کہ یہ دونوں معاملات اگرچہ بالکل مختلف ہیں، ملر رپورٹ کے نتائج سے صدر ٹرمپ کو تقویت حاصل ہوئی ہے اور اُن کی مقبولیت میں اضافہ ہوا ہے۔

XS
SM
MD
LG