رسائی کے لنکس

روہنگیا مہاجرین کے لیے تین کروڑ ڈالر کی اضافی امریکی امداد


ترجمان نے کہا کہ اس سنگین انسانی بحران سے نمٹنے کے لیے، حکومتِ بنگلہ دیش کی جانب سے دکھائی گئی فیاضی قابل تعریف ہے۔ اور، ہم اُن کی جانب سے کیے جانے والے اقدامات کو سراہتے ہیں جن کا مقصد ضرورت مند افراد کے لیے امداد کی فراہمی کو یقینی بنانا ہے

تشدد کی کارروائیوں سے بچنے کے لیے، برما کی رخائن ریاست سے بنگلہ دیش پہنچنے والے پناہ گزیں روہنگیا افراد کی فوری ضروریات پوری کرنے میں مدد دینے کے لیے، امریکہ نے انسانی ہمدردی کی بنیاد پر اضافی تین کروڑ 20 لاکھ ڈالر کی امداد فراہم کرنے کا اعلان کیا ہے۔ ساتھ ہی، یہ امداد ریاست رخائن میں داخلی طور پر بے دخل ہونے والے اور بنگلہ دیش کی میزبان برادریوں کو میسر کی جائے گی۔

یہ بات بدھ کو محکمہٴ خارجہ کے ترجمان کے دفتر سے جاری ہونے والے ایک حقائق نامے میں کہی گئی ہے۔

ترجمان نے کہا کہ یہ امریکی امداد نیو یارک میں جاری اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کے 72ویں اجلاس کے دوران دی جا رہی ہے۔ دیگر ترجیحات میں، اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کے بنیادی موضوعات درپیش ہنگامی حالات سے نبردآزما ہونے کے حوالے سے انسانی ہمدردی کی نوعیت کی کوششوں کو پختہ کرنے کے لیے کہا گیا ہے، خاص طور پر مہاجرین اور اُن کمیونٹیز کے لیے جو اُن کی میزبانی کے فرائض انجام دے رہی ہیں۔

حقائق نامے کے مطابق، نئی فنڈنگ ملک کے اندر بے دخل ہونے والوں اور برما سے ہمسایہ خطے کی جانب سفر کرنے والے پناہ گزینوں کو 2017ء کے مالی سال کی مد میں سے اب تک فراہم کی جانے والی رقم تقریباً نو کروڑ اور 50 لاکھ ڈالر ہے، جو اُس امریکی عزم کو ظاہر کرتی ہے جس میں روہنگیا افراد کی انسانی ہمدردی کی فوری نوعیت کی ضروریات پوری کی جائیں گی، جنھیں غیر معمولی تکالیف کا سامنا ہے۔

ترجمان نے کہا کہ اس سنگین انسانی بحران سے نمٹنے کے لیے، حکومتِ بنگلہ دیش کی جانب سے دکھائی گئی فیاضی قابل تعریف ہے۔ اور، ہم اُن کی جانب سے کیے جانے والے اقدامات کو سراہتے ہیں جن کا مقصد ضرورت مند افراد کے لیے امداد کی فراہمی کو یقینی بنانا ہے۔

حقائق نامے کے مطابق، برما سے بے دخل ہو کر اب تک بنگلہ دیش میں 400000 سے زائد متاثرین نے پناہ لے رکھی ہے۔

فیس بک فورم

XS
SM
MD
LG