رسائی کے لنکس

logo-print

امریکہ بدر کئے گئے افراد کی تعداد میں نمایاں کمی: رپورٹ


ڈی ایچ ایس کے شعبہ  امیگریشن اینڈ کسٹم انفورسٹمنٹ  نے سال 2015 کے دوران کل 3 لاکھ 37 ہزار لوگوں کو امریکہ میں غیر قانونی طریقے سے داخلے کی کوشش کے دوران گرفتار کیا ، یہ تعداد 1972 کے بعد سے دوسری کم ترین تعداد تھی ان میں سے 2 لاکھ 35 ہزار افراد کو ملک بدر کیا گیا

اوباما انتظامیہ نے انکشاف کیا ہے کہ گزشتہ 15 برسوں کے مقابلے میں سال رواں کے دوران ملک بدر کئے جانے والے تارکین وطن کی تعداد بہت کم رہی۔

محکمہٴ ہوم لینڈ سیکورٹی کے سال 2015ء کے اختتام پر جاری کئے جانے والے اعداد و شمار کے مطابق، امریکی سرحدوں پر گرفتاریوں میں کمی ملک بدری میں کمی کی بڑی وجہ ہے اور یہ اس بات کی عکاسی بھی کرتا ہے کہ غیر قانونی تارکین کی امریکہ میں داخل ہونے کی کوششوں میں بھی کمی آئی ہے۔

ڈی ایچ ایس کے شعبہٴ امیگریشن اینڈ کسٹم انفورسٹمنٹ نے سال 2015 کے دوران کل 3 لاکھ 37 ہزار لوگوں کو امریکہ میں غیر قانونی طریقے سے داخلے کی کوشش کے دوران گرفتار کیا۔ یہ تعداد 1972ء کے بعد سے دوسری کم ترین تعداد تھی ان میں سے 2 لاکھ 35 ہزار افراد کو ملک بدر کیا گیا۔

ان گرفتاریوں کے تناسب میں 2014ء کے مقابلے میں 30 فیصد کمی آئی ہے۔

گزشتہ برس سرحدوں پر گشت کرنے والی فورسز نے 4 لاکھ 86 ہزار 652 گرفتاریاں کی تھیں۔ یہ گرفتاریاں سنہ 2000 کے مقابلے میں تقریباً 80 فیصد کم تھیں۔

سرحدی گشت پر مامور فورسز نے 2015ء میں 18 فیصد کم میکسکو سے آئے ہوئے تارکین وطن کو گرفتار کیا، جبکہ وسطی ایشاء سے آنے والے تارکین وطن کی گرفتاریوں میں بھی 68 فیصد کمی آئی دیکھنے میں آئی۔

ایک تخمینہ کے مطابق، امریکہ میں اس وقت رہائش پذیر قانونی تارکین وطن کی تعداد ایک کروڑ 10 لاکھ تک پہنچ چکی ہے۔

XS
SM
MD
LG