رسائی کے لنکس

امریکہ کا میانمار کے فوجی حکام پر پابندیاں  لگانے کا اعلان


میانمار کے شہر ینگون میں اقتدار پر فوجی قبضے کے خلاف مظاہرہ۔ لوگوں نے آن ساں سوچی کی تصاویر اٹھا رکھی ہیں۔ 9 فروری 2021

امریکہ کے صدر جو بائیڈن نے کہا ہے کہ وہ میانمار کے فوجی انقلاب کے سربراہان پر پابندیاں عائد کر رہے ہیں۔ انہوں نے مطالبہ کیا کہ میانمار کی فوج نومبر کے انتخابات میں عوام کی رائے کا احترام کرتے ہوئے اقتدار سے الگ ہو جائے۔

صدر بائیڈن نے بدھ کے روز وائٹ ہاؤس میں اپنے ایک بیان میں کہا کہ امریکی حکومت، میانمار کے فوجی جنرلز کی برمی حکومت کے ایک ارب ڈالر کے فنڈز تک غیر مناسب طریقے سے رسائی روکنے کے لیے اقدام کر رہی ہے۔

انہوں نے ایک ایگزیکٹو آرڈر کی منظوری بھی دے دی ہے جو امریکہ کی جانب سے ان فوجی حکام پر، جنہوں نے فوجی انقلاب منظم کیا تھا، ان کے کاروباری مفادات اور ان کے قریبی رشتے داروں پر فوری طور پر پابندیاں عائد کر دے گا۔

صدر نے کہا کہ اس ہفتے اہداف کے پہلے سلسلے کی نشاندہی کر دی جائے گی اور یہ کہ ہم ان امریکی اثاثوں کو منجمد کر کے، جن سے میانمار کی حکومت کو فائدہ پہنچتا ہے، برآمدات پر سخت کنٹرول بھی نافذکریں گے۔ جب کہ صحت کی دیکھ بھال، سول سوسائٹی کے گروپس اور ان دوسرے شعبوں میں اپنی مدد برقرار رکھیں گے جن سے برما کے لوگوں کو براہ راست فائدہ پہنچتا ہے۔

دوسری جانب میانمار میں فوجی حکومت کی جانب سے سخت پکڑ دھکڑ کے باوجود مظاہرے جاری ہیں۔ امریکہ کے صدر جو بائیڈن نے سویلین حکومت کا تختہ الٹ کر اقتدار پر قبضہ کرنے کے خلاف برما کے عوام کے احتجاج کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ اپنے جمہوری حقوق کے لیے آواز اٹھانے والوں کے خلاف تشدد ناقابل قبول ہے۔ انہوں نے کہا کہ برما کے عوام کی آواز سنی جا رہی ہے۔

وائٹ ہاؤس میں صدر بائیڈن کے اس بیان کے بعد محکمہ خارجہ کے ترجمان نیڈ پرائس نے مزید امکانی اقدامات کے بارے میں خبردار کرتے ہوئے کہا کہ برما کے فوجی رہنماؤں کو معلوم ہونا چاہیے کہ اپنے جمہوری حقوق کے لیے پرامن جدو جہد کرنے والوں کے خلاف تشدد کو برداشت نہیں کیا جائے گا۔

اقوام متحدہ اور دوسری تنظیموں نے مظاہرین کے خلاف طاقت کے استعمال پر اپنے تحفظات کا اظہار کیا ہے۔ انسانی حقوق کی اہم عالمی تنظیموں نے اپنی ان اپیلوں کو ایک بار پھر دوہرایا ہے کہ میانمار میں فوج سے منسلک کاروباروں کے ساتھ بین الاقوامی تعاون کو ختم کر دیا جائے۔ انہوں نے حکومتوں پر زور دیا ہے کہ وہ جرنیلوں اور ان کے مفادات کو ہدف بنانے والی پابندیاں عائد کریں۔

امریکی تھینک ٹینک سی ایس آئی ایس کے ایک تجزیہ کار پولنگ نے ان خدشات پر کہ میانمار کے فوجی لیڈروں پر سخت پابندیاں انہیں چین کے زیادہ قریب کر دیں گی، جس کی وہاں کی معیشت میں سب سے زیادہ سرمایہ کاری ہے، وائس آف امریکہ سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ برما کی فوج بیجنگ کی محبت میں مبتلا نہیں ہے اور فوجی جنرل وہی کچھ کر رہے ہیں جسے وہ اپنے لیے اور برما میں اپنے مشن کے لیے بہتر سمجھتے ہیں۔

فوج جمہوری حکومت کا تختہ الٹنے کا یہ جواز پیش کرتی ہے کہ نومبر کے انتخابات میں، جس میں آنگ سان سوچی کی جماعت این ایل ڈی نے نمایاں کامیابی حاصل کی تھی، بڑے پیمانے پر دھاندلی ہوئی تھی۔

فیس بک فورم

XS
SM
MD
LG