رسائی کے لنکس

عہدے دار کا کہنا تھا کہ دو ریاستی حل امن نہیں لا سکتا اور یہ کوئی ایسا ہدف نہیں ہے جسے کوئی بھی حاصل کرنا چاہتا ہے۔

وہائٹ ہاؤس کے ایک سینیر عہدے دار نے کہا ہے کہ اسرائیل اور فلسطینیوں کے درمیان امن دو ریاستی حل کے ذریعے قائم نہیں ہو سکتا اور یہ کہ اس کا فیصلہ دونوں فریقوں کرنا ہوگا۔

عہدے دار نے کہا ہے کہ امریکہ یہ ہدایت نہیں دے گا کہ امن کی شرائط کیا ہوں گی۔

عہدے دار کا کہنا تھا کہ دو ریاستی حل امن نہیں لا سکتا اور یہ کوئی ایسا ہدف نہیں ہے جسے کوئی بھی حاصل کرنا چاہتا ہے۔

انہوں نے کہا کہ اس کا ہدف امن ہے چاہے وہ دو ریاستی حل کے ذریعے حاصل ہو یا کسی اور طریقے سے جو متعلقہ فریق چاہیں گے۔ ہم ان کی مدد کریں گے۔

امریکی عہدے دار نے یہ تبصرے اسرائیلی وزیر أعظم بنجمن نتن یا ہو کے واشنگٹن کے دورے کے موقع پر بدھ کے روز کیے۔

طویل عرصے سے امریکہ کا سرکاری موقف یہ رہا ہے کہ اسرائیل اور فلسطینیوں کو علاقے کو دو ریاستوں میں تقسیم کرنے کے معاہدے پر گفت و شنید کرنی چاہیے جس کے نتیجے میں ممکنہ طور پر غزہ، مغربی کنارے کا پورا یا کچھ حصہ فلسطینیوں کے کنٹرول میں دے دیا جائے جس کا صدر مقام مشرقی یروشلم ہو۔

سینیر فلسطینی عہدے دار صائب عریقات نے دو ریاستی حل سے دستبرداری کی کسی بھی تجویز کو یہ کہتے ہوئے مسترد کر دیا کہ اس میں تبدیلی کا مطلب امتیازی صورت حال کو جوں کا توں برقرار رکھنا ہے۔

عریقات کا کہنا تھا کہ اس کا حقیقی متبادل فلسطینی ریاست کا اسرائیلی ریاست کے ساتھ1967 کے خطوط کے تحت امن اور سلامتی سے ایک دوسرے کے ساتھ اپنا وجود رکھنا ہے جہاں یہودی، مسلمان اور مسیحی برابری اور یکساں آواز کے ساتھ رہ سکیں۔

اسرائیل اور فلسطینیوں کے درمیان تقریباً تین سال پہلے امن مذاكرات کسی معاہدے پر پہنچے بغیر تعطل کا شکار چلے آ رہے ہیں۔

وہائٹ ہاؤس کے سینیر عہدے دار نے کہا ہے کہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کو توقع ہے کہ وہ دونوں فریقوں کی امن پر بات چیت کرنے کی جانب لا سکیں گے۔ لیکن یہ عمل نئی انتظامیہ کے لیے ترجيج نہیں ہے۔

وہائٹ ہاؤس کے عہدے دار نے یہ بھی کہا کہ ٹرمپ امریکی سفارت خانے کو تل ابیب سے یروشلم منتقل کرنے سے متعلق بات چیت کی حمایت کرتے ہیں اور فلسطینیوں کی زمین پر نئی اسرائیلی آبادیوں کی تعمیر کو مستقبل کی ریاست کے ایک حصے کے طور پر دیکھتے ہیں۔

نئی یہودی بستیوں کی تعمیر کی دنیا بھر میں مذمت کی گئی ہے۔

XS
SM
MD
LG