رسائی کے لنکس

logo-print

ملائیشین طیارے کو مار گرانے والوں کو انصاف کے کٹہرے میں لانے کا مطالبہ


جولائی میں مار گرائے جانے والے اس طیارے پر سوار تمام 298 افراد ہلاک ہوگئے تھے۔ اس شک کا اظہار کیا جارہا ہے کہ یہ میزائل ان باغیوں نے فائر کیا جنہیں مبینہ طور پر روس کی پشت پناہی حاصل ہے۔

امریکہ کے صدر براک اوباما، آسٹریلیا اور جاپان کے وزرائے اعظم نے جولائی میں مشرقی یوکرین کی فضائی حدود میں ملائیشین ائیر لائنز کے طیار ے کو مار گرانے والوں کے لیے انصاف کا مطالبہ کیا ہے۔

یہ مطالبہ اوباما کی اتوار کو آسٹریلوی وزیراعظم ٹونی ایبٹ اور جاپان کے شنزو ایب سے جی 20 ملکوں کی برسبین میں ہونے والی سربراہی کانفرنس کے موقع پر سہ فریقی ملاقات میں کیا گیا۔

جولائی میں مار گرائے جانے والے اس طیارے پر سوار تمام 298 افراد ہلاک ہوگئے تھے۔

اس شک کا اظہار کیا جارہا ہے کہ یہ میزائل ان باغیوں نے فائر کیا جنہیں مبینہ طور پر روس کی پشت پناہی حاصل ہے۔

تینوں رہنماؤں نے روس کے کرائمیا کو اپنا حصہ بنائے جانے اور اس کی طرف سے مشرقی یوکرین کو غیر مستحکم کرنے کے عمل کی ایک بار پھر مخالفت کی۔

کریملن اپنے فوجی دستوں اور ہتھیاروں کی یوکرین میں موجودگی سے انکاری ہے اس کے باوجود کہ نیٹو اور یورپی یونین کے مبصرین نے روسی ٹینکوں کے دستوں اور ہھتیاروں کے گزشتہ ہفتے سرحد پار کرنے کے بارے میں اطلاع دی تھی۔

چین کا نام لیے بغیر تینوں رہنماؤں نے سمندری تنازعات کو پرامن طور پر قانون کے مطابق حل کرنے پر زور دیا۔ چین کا ویتنام، فلپائن اور ملائیشا کے ساتھ بحیرہ جنوبی چین میں ماہی گیری اور تیل کے حقوق سے متعلق تنازع ہے جبکہ جاپان کے ساتھ غیر آباد جزیروں کی ملکیت پر بھی اس کا تنازع چلا آرہا ہے۔

یہ حکومتیں اور امریکہ چین پر مبینہ طور پر اپنی فوجی طاقت کے بل بوتے پر اپنے پڑوسیوں کو ڈرانے دھمکانے کا الزام عائد کرتی ہیں جبکہ چین ان الزامات کو مسترد کرتا آیا ہے۔

وائٹ ہاؤس کے مطابق امریکہ اور جاپان نے گلوبل وارمنگ یعنی عالمی حدت سے نمٹنے کے لیے ترقی پذیر ملکوں کی مدد کے لیے قائم "گرین کلائمٹ فنڈ " کے لیے چار ارب تیس کروڑ ڈالر کا وعدہ کیا ہے۔

XS
SM
MD
LG